نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) نے 29 ستمبر 2026 کو گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) کا نیا ورژن جاری کردیا ہے۔ یہ نیا منصوبہ فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے۔ اس کے تحت ہوا کے معیار کے مطابق چار مختلف مراحل میں پابندیاں اور سخت اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔ 28 ستمبر کو CAQM کے چیئرمین راجیش ورما کی سربراہی میں کمیشن کی 30ویں میٹنگ ہوئی تھی، جس میں نئے GRAP شیڈول کو منظوری دی گئی۔
نئے GRAP میں اہم تبدیلی یہ ہے کہ اس کے مراحل صرف AQI خراب ہونے کے بعد ہی نافذ نہیں کیے جائیں گے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی اور دہلی کے ممکنہ AQI کو دیکھتے ہوئے کسی مرحلے کو پہلے سے بھی نافذ کیا جاسکے گا۔ اگر اچانک فضائی معیار انتہائی خراب ہوجاتا ہے تو متعلقہ مرحلے کو فوری طور پر نافذ کیا جاسکے گا۔ یعنی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات کیے جاسکیں گے۔
AQI کے مطابق چار مراحل میں تقسیم
نئے GRAP میں فضائی معیار کو چار مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:
اسٹیج-1: خراب — AQI 201 سے 300
اسٹیج-2: بہت خراب — AQI 301 سے 400
اسٹیج-3: شدید — AQI 401 سے 450
اسٹیج-4: شدید پلس — AQI 450 سے زیادہ
جیسے جیسے AQI کی سطح بڑھے گی، پابندیاں بھی مزید سخت ہوتی جائیں گی۔
اسٹیج-1 میں دھول اور کچرا جلانے پر سختی
AQI کے 201 سے 300 کے درمیان رہنے پر اسٹیج-1 نافذ ہوگا۔ اس دوران تمام تعمیراتی اور انہدامی مقامات پر دھول کو قابو کرنے کے لیے سخت انتظامات کرنا ہوں گے۔ تعمیراتی سامان کھلے میں نہیں رکھا جاسکے گا اور اسے ڈھانپ کر رکھنا ہوگا۔ کچرے اور ملبے کو کھلے میں پھینکنے پر پابندی ہوگی۔ سڑکوں کی مشینی صفائی اور پانی کا چھڑکاؤ ضروری ہوگا۔ کھلے میں کچرا یا پرالی جلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے PUC سرٹیفکیٹ کی جانچ تیز کی جائے گی اور زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
AQI 301 سے اوپر گیا تو پارکنگ فیس بڑھے گی
AQI کے 301 سے 400 کے درمیان پہنچنے پر اسٹیج-2 نافذ ہوگا۔ اس مرحلے میں سڑکوں کی روزانہ ویکیوم مشینوں سے صفائی اور پانی کے چھڑکاؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔ زیادہ آلودگی والے ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تعینات کرکے صفائی اور نگرانی کی جائے گی۔ لوگوں کو ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے پارکنگ فیس میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہلی کے ساتھ گروگرام، فریدآباد، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر میں سرکاری اور میونسپل دفاتر کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی جاسکتی ہے تاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔
شدید آلودگی پر بڑے تعمیراتی کام رکیں گے
جب AQI 401 سے 450 کے درمیان پہنچے گا تو اسٹیج-3 کے تحت سخت اقدامات نافذ ہوں گے۔ اس دوران دھول پیدا کرنے والے تقریباً تمام بڑے تعمیراتی کاموں پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ ان میں زمین کی کھدائی، پائلنگ، عمارتوں کو منہدم کرنا، کھلے میں پائپ لائن بچھانا، اینٹوں کی تعمیر، RMC پلانٹ میں کنکریٹ تیار کرنا، بڑی ویلڈنگ اور گیس کٹنگ، پینٹنگ، ٹائل اور پتھر کاٹنے اور بڑی سڑکوں کی تعمیر جیسے کام شامل ہیں۔ تاہم ریلوے، میٹرو، ہوائی اڈوں، اسپتالوں، ملک کی سلامتی سے متعلق منصوبوں اور بعض ضروری سرکاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو شرائط کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
پرانی گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی پابندی
اسٹیج-3 کے دوران گاڑیوں کے لیے بھی سخت پابندیاں نافذ ہوسکتی ہیں۔ دہلی اور زیادہ ٹریفک والے علاقوں، جن میں گڑگاؤں، فریدآباد، سونی پت، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر شامل ہیں، میں BS-3 پیٹرول اور BS-4 یا اس سے پرانی ڈیزل گاڑیوں کی آمدورفت روکی جاسکتی ہے۔ دہلی میں BS-4 اور اس سے پرانے ڈیزل والے درمیانے مال بردار گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
اسکولوں اور دفاتر کے کام کاج پر بھی اثر
فضائی آلودگی کی صورتحال سنگین ہونے پر اسکولوں اور دفاتر کے لیے بھی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ دہلی، گڑگاؤں، فریدآباد، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر میں پانچویں جماعت تک کے بچوں کی کلاسیں ہائبرڈ موڈ، یعنی آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے چلائی جاسکتی ہیں۔ سرکاری، میونسپل اور نجی دفاتر کو 50 فیصد عملے کے ساتھ چلانے اور باقی ملازمین کو ورک فرام ہوم دینے کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ تاہم نئے GRAP میں ایک اہم رعایت بھی دی گئی ہے۔ سڑکوں پر گڑھے بھرنے جیسے ضروری مرمتی کام جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
AQI 450 سے اوپر پہنچا تو سب سے سخت مرحلہ نافذ
جب AQI 450 سے تجاوز کرے گا تو GRAP کا اسٹیج-4 یعنی ’شدید پلس‘ نافذ ہوگا۔ اس کے تحت دہلی میں ٹرکوں کی داخلے پر مکمل پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ صرف LNG، CNG، الیکٹرک اور BS-6 ڈیزل ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ BS-4 اور اس سے پرانے ڈیزل والے بڑے مال بردار گاڑیوں پر بھی مکمل پابندی رہے گی۔ تعمیراتی سرگرمیوں پر اسٹیج-3 سے بھی زیادہ سخت پابندیاں نافذ ہوں گی۔ اس کے علاوہ چھٹی سے نویں اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے بھی ہائبرڈ کلاسز شروع کی جاسکتی ہیں۔
نئے GRAP میں مجموعی طور پر 48 ایکشن پوائنٹس
CAQM کے مطابق نئے نظرثانی شدہ GRAP میں مجموعی طور پر 48 مختلف ایکشن پوائنٹس شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں اسٹیج-1 کے تحت 25، اسٹیج-2 میں 8، اسٹیج-3 میں 10 اور اسٹیج-4 میں 5 اقدامات شامل ہیں۔ ہر مرحلے کے لیے عام لوگوں کی رہنمائی کے مقصد سے سٹیزن چارٹر بھی جاری کیا جاتا ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ عوام کو کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے گریز کرنا چاہیے۔ اس مرتبہ چارٹر میں نئے Do’s اور Don’ts بھی شامل کیے گئے ہیں۔
کھیلوں کے مقابلے ملتوی کرنے کا مشورہ
کمیشن نے 10 ستمبر کو جاری اپنی ایڈوائزری نمبر 18 کا بھی حوالہ دیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ NCR میں نومبر اور دسمبر کے دوران ہونے والے آؤٹ ڈور کھیلوں کے مقابلوں کو فضائی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسری تاریخوں پر منتقل کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اسکولی بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا گیا ہے۔
1831 فیکٹریوں کے خلاف کارروائی
انفورسمنٹ ٹاسک فورس کی کارروائی کے بارے میں بھی اجلاس میں معلومات پیش کی گئیں۔ 17 ستمبر 2026 تک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی 1831 اکائیوں کو بند کرنے کے احکامات دی جاچکے ہیں۔ ان میں سے 1479 اکائیوں نے قواعد پر عمل کرنے کے بعد دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت حاصل کرلی ہے۔ جبکہ 126 معاملات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز اور دہلی پولوشن کنٹرول کمیٹی (DPCC) کو بھیجے گئے ہیں۔
دہلی-این سی آر میں 4.13 کروڑ پودے لگائے گئے
شجرکاری کے حوالے سے بھی اجلاس میں اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ دہلی-NCR میں 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 4.60 کروڑ سے زیادہ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ 22 ستمبر تک 4.13 کروڑ پودے لگائے جاچکے ہیں۔ دہلی میں 58.01 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں 62 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ یوپی-NCR میں 1.71 کروڑ کے ہدف کے مقابلے میں 1.85 کروڑ، جبکہ راجستھان-NCR میں 1.07 کروڑ کے ہدف کے مقابلے میں 1.16 کروڑ پودے لگائے گئے ہیں۔ ہریانہ-NCR میں 1.20 کروڑ کے ہدف کے مقابلے میں اب تک 60 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ CAQM نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ صرف شجرکاری پر توجہ کافی نہیں، بلکہ لگائے گئے پودوں کے زندہ رہنے اور ان کی دیکھ بھال کی بھی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



