نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف (اپوزیشن لیڈر) راہل گاندھی نے منگل کو خواتین کی حفاظت کے مطالبے پر دہلی میں طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے نوجوان خواتین، خصوصاً جنریشن زیڈ (Gen Z) سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں اس مہم میں حصہ لیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی وجہ سے ان پر پابندیاں عائد نہیں کی جانی چاہئیں، بلکہ عوامی مقامات کو محفوظ بنانے اور جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا، ’’خواتین کو ان جرائم کی سزا دینا بند کریں جو ان کے خلاف کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں خواتین سڑکوں پر چلنے سے ڈرتی ہیں، ہراسانی کا خوف محسوس کرتی ہیں اور عصمت دری کے خدشات میں مبتلا رہتی ہیں۔ اور حکومت کا جواب ہے کہ گھر میں رہو۔‘‘
’خواتین کو نہیں، مجرموں کو سزا ملنی چاہیے‘
راہل گاندھی نے مزید کہا، ’’یہ پدرشاہی نظام کا عملی مظاہرہ ہے، جہاں متاثرہ شخص کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے اور مجرم کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس نظام کو ختم کیا جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کا حل انہیں گھروں میں بند کرنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے مردوں کی ذہنیت کا مقابلہ کرنا اور حملہ آوروں کو بلا استثنا فوری سزا دینا ہے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے خواتین کی حفاظت کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان سامنے آیا ہے۔ یہ احتجاج رواں ماہ جنوبی دہلی کے آستھا کنج پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔
23 ستمبر کو طلبہ نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا
احتجاج کا پہلا بڑا مظاہرہ 23 ستمبر کو ہوا، جب دہلی یونیورسٹی اور اس سے وابستہ اداروں کے تقریباً 200 طلبہ سڑکوں پر اترے۔ ان میں لیڈی شری رام کالج فار ویمن، میرانڈا ہاؤس، گارگی کالج اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل تھے۔ طلبہ اور اساتذہ نے تعلیمی اداروں کے آس پاس خواتین کو ہراساں کیے جانے، نگرانی کے ناکافی انتظامات، پولیس کی موجودگی اور کالج آنے جانے والی طالبات کی حفاظت سے متعلق خدشات اٹھائے۔ 25 ستمبر کو بھی سینکڑوں طالبات نے دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب مارچ کیا اور عوامی مقامات کو محفوظ بنانے کے ساتھ جنسی ہراسانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی تعیناتی کے درمیان مظاہرین کو سری فورٹ روڈ سے ارون جیٹلی پارک منتقل کردیا گیا۔ پیر کو فیکلٹی آف آرٹس میں بھی احتجاج کیا گیا، جس میں دہلی یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ نے شرکت کی۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور کوئیر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ایک ہفتے کے دوران ہونے والے ان مظاہروں میں اسے تیسرا اور سب سے بڑا احتجاج قرار دیا گیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر مناسب روشنی نہ ہونے، روزانہ سفر کے دوران عدم تحفظ اور حفاظت کے نام پر خواتین پر پابندیاں عائد کیے جانے جیسے مسائل اٹھائے۔
کالجوں کے اطراف سکیورٹی انتظامات پر سوال
لیڈی شری رام کالج کی طالبات نے بھی کالج کے آس پاس اندھیری سڑکوں، پولیس کی ناکافی موجودگی، پنک بوتھس کے غیر فعال ہونے اور ہنگامی صورت حال میں مدد حاصل کرنے میں دشواری جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ خواتین کی حفاظت سے متعلق خدشات اس وقت مزید نمایاں ہوگئے جب دہلی یونیورسٹی کی دو طالبات نے الزام لگایا کہ انہیں مکھرجی نگر کے علاقے میں حقیقت پارک کے قریب ایک ایس یو وی میں سوار افراد نے پیچھا کرکے جنسی طور پر ہراساں کیا۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر نازیبا تبصرے کیے اور خواتین کی جانب سے واقعے کی ریکارڈنگ شروع کیے جانے پر فرار ہوگئے۔ احتجاج کے درمیان دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) نے واٹس ایپ ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے، جس کے ذریعے طلبہ جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ تصاویر بھیج کر غیر محفوظ یا کم روشنی والے مقامات کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ طلبہ یونین نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے گی۔ آستھا کنج پارک کے قریب واقع لیڈی شری رام کالج نے مبینہ واقعے کے بعد عارضی طور پر آن لائن کلاسز شروع کردی تھیں۔ بعد میں کالج نے آف لائن کلاسز بحال کرتے ہوئے طلبہ کی ایک سکیورٹی کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا، جو کیمپس کی حفاظت کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ رکھے گی۔
خواتین کی حفاظت پر سیاسی بیان بازی بھی تیز
اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر سوربھ بھاردواج نے آستھا کنج پارک کے واقعے کے بعد دہلی حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھائے اور قومی دارالحکومت میں خواتین اور طالبات کی حفاظت سے متعلق خدشات ظاہر کیے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں بھاردواج نے کہا، ’’بی جے پی کی خاتون وزیراعلیٰ سے دہلی کو کیا حاصل ہوا؟ ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اس کی سالگرہ کے دن کالکاجی مندر سے واپسی کے دوران تین مردوں نے اجتماعی عصمت دری کی۔ یہاں تک کہ ایل ایس آر جیسے ممتاز کالج کو بھی آن لائن کلاسز چلانے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘ انہوں نے خواتین کے خلاف جرائم کا ذکر کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ عصمت دری، اجتماعی عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ 23 ستمبر کو اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بھاردواج نے کہا تھا کہ مبینہ عصمت دری کا واقعہ نہرو پلیس کے قریب پیش آیا اور سوال اٹھایا تھا کہ قومی دارالحکومت کے ایک گنجان آباد علاقے میں ایسا واقعہ کیسے ہوسکتا ہے۔
راہل گاندھی نے پُرامن احتجاج کو جمہوری حق قرار دیا
راہل گاندھی نے اپنے بیان میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے مزید نوجوان خواتین سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے پُرامن مظاہروں کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے احتجاج میں شریک افراد کی حمایت کی۔ دہلی میں جاری یہ مظاہرے خواتین کی حفاظت، تعلیمی اداروں کے اطراف پولیس انتظامات، عوامی بنیادی ڈھانچے اور خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے متعلق بحث کو ایک بار پھر مرکز میں لے آئے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے سڑکوں پر روشنی، پولیس گشت، عوامی ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں کے اطراف سکیورٹی نظام بہتر بنانے کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


