Bharat Express DD Free Dish

Rape of Female Student: پنجاب میں LPU میں طالبہ کے مبینہ ریپ پر طلبہ میں شدید غم و غصہ، رات بھر یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ

بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام کو بتایا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی بیرونی شخص نے ایک طالبہ کے ساتھ عصمت دری کی ہے۔

نئی دہلی : پنجاب کے فگواڑہ میں واقع لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) میں مبینہ عصمت دری کی اطلاع کے بعد طلبہ کا احتجاج صبح بھی جاری ہے۔ رات کو ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کے بعد طلبہ نے صبح ایک بار پھر چندی گڑھ-امرتسر قومی شاہراہ کو بند کر دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک طالبہ سے مبینہ عصمت دری سے متعلق پیغام وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا احتجاج اب مزید بڑھ گیا ہے۔اس سے پہلے رات تقریباً 2 بجے بڑی تعداد میں طلبہ یونیورسٹی میں جمع ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج نے شدت اختیار کر لی اور یونیورسٹی احاطے میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی گئی۔بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام کو بتایا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی بیرونی شخص نے ایک طالبہ کے ساتھ عصمت دری کی ہے۔

پولیس نے واقعے کی تصدیق نہیں کی

تاہم پولیس کے مطابق اب تک ایسے کسی واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغام کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی گیٹ پر توڑ پھوڑ، ہائی وے بھی بند

ہنگامہ بڑھنے کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر پہنچ گئے۔ یہاں طلبہ نے گیٹ میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد مظاہرین چندی گڑھ-امرتسر قومی شاہراہ پر پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دے کر سڑک بند کر دی۔ اس کی وجہ سے رات کے وقت ہائی وے پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔

موقع پر پہنچی پولیس، تحقیقات جاری

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کپور تھلہ کے ایس پی گورو تور بھی رات میں موقع پر پہنچے۔ پولیس نے طلبہ سے بات چیت کرکے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ حکام کے مطابق فی الحال سب سے اہم بات یہ معلوم کرنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا پیغام کہاں سے آیا اور اس میں کیے گئے دعوے کی حقیقت کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ طالبہ کے ساتھ واقعی کوئی واقعہ پیش آیا تھا یا پھر افواہ کی وجہ سے پورا تنازع کھڑا ہوا۔ فی الحال معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read