نئی دہلی : جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی اور دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی مسابقت اور سیمی کنڈکٹر پالیسی اہم موضوعات بنے، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا۔این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ یہ ایسے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتی ہے،بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی یقینی طور پر اتنی طاقتور ہے کہ ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے، جن میں ایک ارب افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بد نیت لوگوں کے ہاتھوں جدید اے آئی ٹولز کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرے جتنا طاقتور ہتھیار اس سے پہلے کبھی موجود نہیں رہا۔ ان کا یہ بیان ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے چند ہی روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں اے آئی دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت کا ایک اہم موضوع رہی۔ دونوں لیڈروں نے ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا، تاہم اس بات پر بحث جاری ہے کہ اے آئی کے استعمال اور ترقی کو کس حد تک ضابطوں کا پابند بنایا جانا چاہیے۔
Bill Gates warned that AI could become powerful enough to create catastrophic risks, saying it could “drive events that… cause a billion deaths.”
Speaking on NBC’s Meet the Press, Gates said:
“Even though it’s pretty hard to get to 100%, there’s never been a weapon as powerful… pic.twitter.com/LRtYjonJjU
— Clash Report (@clashreport) September 25, 2026
ٹرمپ-شی ملاقات میں اے آئی پر خصوصی توجہ
ٹرمپ اور شی جن پنگ کے سربراہی اجلاس میں تجارت، نایاب معدنیات اور سیمی کنڈکٹرز کے ساتھ مصنوعی ذہانت بھی اہم موضوعات میں شامل رہی۔ ٹرمپ کئی بار وسیع پیمانے پر اے آئی کے لیے ضابطے عائد کرنے کی مخالفت کرچکے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکہ کو چین کے مقابلے میں اپنی تکنیکی برتری برقرار رکھنے کے لیے مسابقتی رہنا ہوگا۔ اسی ماہ کے آغاز میں جب ان سے اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی تجاویز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بعض صنعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بہت سی منفی قوتیں‘‘ ایسی باتیں سامنے لا رہی ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا تھا، ’’ہم اے آئی میں چین سے آگے ہیں اور میں ایمانداری سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہی رہے، کیونکہ جو اے آئی میں جیتے گا، وہ جیتے گا۔‘‘دوسری جانب شی جن پنگ بھی اے آئی سے وابستہ خطرات کا اعتراف کرچکے ہیں اور ذمہ دارانہ ترقی اور نگرانی پر زور دیتے رہے ہیں۔یہ بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب پالیسی سازوں کو ٹیکنالوجی میں جدت کے فروغ اور سائبر سکیورٹی، غلط معلومات، خودکار ہتھیاروں اور جدید اے آئی نظام پر انسانی کنٹرول ختم ہونے کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔بل گیٹس بھی گزشتہ کچھ عرصے سے اے آئی کی صلاحیتوں کے حوالے سے امید کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات اور مضبوط نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔
بل گیٹس نے قانون سازی کی حمایت کی
بل گیٹس نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ اے آئی کمپنیوں کو اپنے معاملات کی نگرانی خود کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ جب کرسٹن ویلکر نے ان سے پوچھا کہ کیا کمپنیوں کی جانب سے خود ضابطہ سازی کافی ہے، تو بل گیٹس نے دوٹوک جواب دیا، ’’کوئی نہیں سمجھتا کہ خود ضابطہ سازی کافی ہے۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن کو اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے تو انہوں نے جواب دیا، ’’بالکل۔‘‘بل گیٹس نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاست دانوں کو اس بحث میں شامل ہونا چاہیے کہ حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا نظام کیسا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے ٹیکنالوجی کی صنعت پر صرف محدود اضافی بوجھ پڑے گا۔ان کے یہ بیانات جدید مصنوعی ذہانت کے نظام پر حکومتی نگرانی بڑھانے کے لیے ان کے طویل عرصے سے جاری مطالبات سے مطابقت رکھتے ہیں، کیونکہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

