اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات میں ابھی وقت باقی ہے، لیکن سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے 24 ستمبر کو کانگریس رہنما راہل گاندھی کے لوک سبھا حلقے رائے بریلی سے اپنی پی ڈی اے رتھ یاترا شروع کی۔ یاترا کے آغاز کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد، سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حکمت عملی کو لے کر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔
اکھلیش نے رائے بریلی کو ہی کیوں چنا؟
رائے بریلی طویل عرصے سے گاندھی خاندان کی سیاست کا اہم مرکز رہا ہے اور موجودہ وقت میں یہاں سے راہل گاندھی لوک سبھا رکن ہیں۔ ایسے میں اکھلیش یادو کا اسی علاقے سے اپنی پی ڈی اے یاترا شروع کرنا سیاسی طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔تاہم سماج وادی پارٹی نے اسے کانگریس مخالف مہم کے طور پر پیش نہیں کیا۔ اکھلیش یادو نے کانگریس کے ساتھ اتحاد جاری رکھنے اور مل کر انتخاب لڑنے کی بات بھی کہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی مبصرین کے مطابق رائے بریلی سے یاترا شروع کرنے سے سماج وادی پارٹی نے اتر پردیش میں اپنی تنظیمی موجودگی اور سیاسی اثر و رسوخ کا پیغام ضرور دیا ہے۔
پی ڈی اے کا کیا مطلب ہے؟
سماج وادی پارٹی کے مطابق پی ڈی اے سے مراد پسماندہ، دلت اور اقلیت ہے۔ پارٹی اس سماجی اتحاد کو اپنے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ قرار دیتی رہی ہے۔رائے بریلی میں یاترا کے دوران بھی اکھلیش یادو نے اسی فارمولے پر زور دیا۔ سماج وادی پارٹی کا کہنا ہے کہ یاترا کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کرنے، تنظیم کو مضبوط کرنے اور گاؤں سے بوتھ کی سطح تک عوام سے رابطہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیٹوں کی تقسیم پر اکھلیش کا کیا فارمولا ہے؟
پی ڈی اے رتھ یاترا کے دوران اکھلیش یادو نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے اہم بات کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد برقرار رہے گا، لیکن سیٹوں کی تقسیم میں صرف تعداد کو بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جس سیٹ پر جس پارٹی یا امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں، وہاں اسی کو ترجیح ملنی چاہیے۔ ان کے اس بیان کو 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے آئندہ ہونے والی سیٹ شیئرنگ بات چیت میں سماج وادی پارٹی کے موقف کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی حتمی تقسیم طے نہیں ہوئی ہے۔
کانگریس کی طرف سے اجے رائے کا جواب
اکھلیش یادو کی رائے بریلی یاترا کے بعد اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وقت میں کوئی بھی رہنما کہیں بھی جا سکتا ہے اور کانگریس اپنا کام مضبوطی سے کر رہی ہے۔ اجے رائے نے یہ بھی کہا کہ اگر اکھلیش یادو رائے بریلی اور امیٹھی جا سکتے ہیں تو کانگریس کے رہنما قنوج، اٹاوہ اور سیفئی بھی جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی بیان بازی کو لے کر بحث مزید تیز ہوگئی۔
اصل معاملہ سیٹوں کی تقسیم کا ہے؟
سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات اتر پردیش میں اتحاد کے ساتھ لڑے تھے۔ اب 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے دونوں جماعتوں کے سامنے 403 اسمبلی نشستوں کی تقسیم ایک اہم مسئلہ ہوگی۔ اسمبلی انتخابات کا سیاسی اور علاقائی حساب لوک سبھا انتخابات سے مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں جماعتوں کے درمیان کس علاقے میں کس پارٹی کی تنظیم مضبوط ہے، گزشتہ انتخابات میں کارکردگی کیا رہی اور کون سا امیدوار مقابلے میں بہتر پوزیشن رکھتا ہے، جیسے معاملات سیٹ شیئرنگ مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔رائے بریلی سے یاترا شروع کرنے اور ’جیتنے کی صلاحیت‘ کو سیٹ تقسیم کی بنیاد بنانے کے اکھلیش کے بیان کو اسی وسیع سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
2027 سے پہلے اتحاد کے لیے اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
فی الحال اکھلیش یادو کی پی ڈی اے رتھ یاترا کو سماج وادی پارٹی کی 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف پارٹی پی ڈی اے سماجی اتحاد اور اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے پر زور دے رہی ہے، تو دوسری طرف کانگریس کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اصل امتحان آنے والے دنوں میں سیٹوں کی تقسیم اور مشترکہ انتخابی پروگراموں پر ہونے والی بات چیت ہوگی۔ رائے بریلی سے شروع ہونے والی یاترا نے اس سیاسی گفتگو کو ضرور نمایاں کردیا ہے، لیکن اس مرحلے پر اسے اتحاد میں اختلاف یا ٹوٹ پھوٹ کا حتمی ثبوت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




