اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کو لے کر جاری سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کے درمیان مغربی اتر پردیش کے دو نمایاں مسلم سیاسی چہرے عمران مسعود اور اقرا حسن بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ یہ معاملہ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور کیرانہ سے ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے درمیان سیاسی بیان بازی کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
عمران مسعود کا سیٹوں کی تقسیم جلد طے کرنے پر زور
سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود مسلسل سماج وادی پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ اکھلیش یادو کی مسلم سیاست پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ عمران مسعود کا کہنا ہے کہ اتحاد کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہونا ہے، اسے جلد حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تاخیر سے نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس کے بغیر بی جے پی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ عمران مسعود نے یہ مؤقف بھی ظاہر کیا کہ اگر اکھلیش یادو اتحاد میں بڑا دل نہیں دکھاتے تو کانگریس اکیلے انتخابی میدان میں اترنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے اپنے ضلع کی نشستوں پر کسی رعایت سے بھی انکار کیا ہے۔ ان کے اس موقف کو کانگریس کی اس حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے جس کے تحت پارٹی مغربی اتر پردیش اور مسلم اکثریتی نشستوں پر سیٹوں کی تقسیم میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔
ایس پی نے اقرا حسن کو جواب دینے کے لیے آگے کیا
عمران مسعود کے بیانات کے جواب میں ایس پی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ اتر پردیش میں اگر کوئی لیڈر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اکھلیش یادو ہیں۔ اقرا حسن نے کانگریس کی انتخابی پوزیشن پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اپنے دم پر اکیلے انتخابات لڑتی ہے تو وہ کچھ نہیں کر پائے گی۔ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد کے حوالے سے اقرا حسن نے کہا کہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو بہتر ہے، ورنہ اس کا نقصان کانگریس کو ہوگا، سماج وادی پارٹی کو نہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست میں دونوں جماعتوں کے تعلقات اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔
عمران مسعود اور اقرا حسن آمنے سامنے کیوں؟
عمران مسعود اور اقرا حسن دونوں مغربی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے نمایاں مسلم سیاسی خاندانوں سے آتے ہیں۔ ان کے درمیان جاری بیان بازی کو ایس پی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم اور سیاسی اثر و رسوخ کو لے کر جاری اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی یوپی میں مسلم ووٹروں کے درمیان دونوں جماعتوں کی سیاسی رسائی بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ اقرا حسن کو عمران مسعود کے بیانات کا جواب دینے کے لیے سامنے لانے کو ایس پی کی جانب سے اپنی سیاسی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیٹوں کی تقسیم پر ایس پی اور کانگریس میں کشمکش
اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ایس پی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ سیٹ شیئرنگ ہے۔ عمران مسعود چاہتے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم جلد طے ہو تاکہ پارٹی انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھا سکے۔ دوسری جانب ایس پی اپنے تنظیمی اور زمینی سیاسی حساب کتاب کے مطابق سیٹوں کی تقسیم پر بات آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور بیانات میں سیاسی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔ عمران مسعود اور اقرا حسن کے درمیان حالیہ بیان بازی کو اسی وسیع تر سیاسی اختلاف کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2027 کے انتخابات کے لیے اتحاد کی حتمی شکل، سیٹوں کی تقسیم اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی سمجھوتے سے متعلق مزید فیصلے ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


