برطانیہ کے ٹیل فورڈ میں بس ڈرائیور پر حملے کے بعد افراتفری مچ گئی۔ ایک شخص نے سکھ بس ڈرائیور کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی اور اس کے بعد سنگل ڈیکر بس پر قبضہ کر لیا۔ واقعے کے دوران بس غلط سمت میں چلتے ہوئے کئی گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس نے مسلح اہلکاروں کو موقع پر روانہ کیا اور کچھ ہی دیر میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ حملہ آور کو بس کے اندر ڈرائیور کے ساتھ مارپیٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کے دوران بس میں موجود مسافر خوف زدہ نظر آئے اور ملزم کو روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ ویڈیو میں ڈرائیور مسلسل اپنا فون مانگتا اور مسافروں سے پولیس کو بلانے کی اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک خاتون مسافر ملزم سے ڈرائیور کو چھوڑنے کے لیے کہتی ہے، جبکہ ایک اور مسافر بھی حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔
ٹکٹ مشین سے کیا حملہ
ویڈیو میں نظر آنے والے واقعے کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر بس کی ٹکٹ مشین اٹھا کر ڈرائیور پر پھینکی۔ اس کے بعد اس نے ڈرائیور کی داڑھی کھینچی اور سر سے ٹکر مارنے کی کوشش کی۔ حملے کے بعد ملزم نے بس کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے آگے لے گیا۔
غلط سمت میں دوڑی بس، کئی گاڑیوں سے ٹکرائی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً 6 بجے کے بعد میڈلی علاقے کی کورٹ اسٹریٹ میں پیش آیا۔ پولیس کو ایک خطرناک واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس کے مطابق بس غلط سمت میں چل رہی تھی اور اس دوران کئی گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔ بس کے آگے بڑھنے کے دوران آس پاس موجود لوگوں نے ڈرائیور کو روکنے کے لیے شور مچایا۔
10 منٹ میں پولیس نے ملزم کو پکڑا
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مالِنز گیٹ پولیس اسٹیشن سے مسلح اہلکاروں کو موقع پر بھیجا گیا۔ پولیس کے مطابق پہلی 999 کال موصول ہونے کے تقریباً 10 منٹ کے اندر بس کو روک لیا گیا اور 33 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کو ڈکیتی اور خطرناک طریقے سے گاڑی چلانے کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ملزم کے یمن کا رہنے والا ہونے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم پولیس نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں
حملے میں بس ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں۔ طبی عملے نے موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد دی، جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں کسی دوسرے شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



