9ویں این سی چاگلہ میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے گہرے باہمی تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انسانی حقوق صرف قانونی دفعات اور آئین کے صفحات میں درج حقوق تک محدود نہیں، بلکہ باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری سماجی اور اقتصادی حالات سے بھی براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
’’انسانی حقوق صرف قانونی دفعات اور آئین کے صفحات میں درج حقوق تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری سماجی اور اقتصادی حالات سے براہ راست جڑے ہیں۔ صرف سیاسی آزادی کافی نہیں ہو سکتی؛ جب تک کسی شہری کو خوراک، تعلیم، صحت، روزگار اور باعزت زندگی کی بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں، تب تک اس کے حقوق کا حقیقی فائدہ محدود ہی رہے گا۔‘‘
جسٹس این سی چاگلہ کی آئینی اقدار کو یاد کیا
اپنے کلیدی خطاب میں جسٹس بی آر گوائی نے معروف قانون داں اور سابق چیف جسٹس جسٹس این سی چاگلہ کی قانونی اور عوامی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس چاگلہ کی پوری زندگی آئین، قانون کی حکمرانی، زندہ جمہوریت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کی علامت رہی۔ جسٹس گوائی نے کہا کہ جسٹس چاگلہ کا عدالتی فلسفہ آج بھی قانونی برادری کی رہنمائی کرتا ہے۔
باباصاحب کے خیالات کا حوالہ، سماجی و اقتصادی جمہوریت کو ضروری قرار دیا
جسٹس گوائی نے اپنے خطاب کو آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے دوراندیش خیالات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سیاسی جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے اس کی بنیاد سماجی اور اقتصادی جمہوریت پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر معاشرے میں اقتصادی عدم مساوات اور سماجی تفریق برقرار رہے گی تو سیاسی مساوات کا ڈھانچہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔
عالمی انسانی حقوق کے منشور اور بین الاقوامی سفر کا ذکر
لیکچر کے دوران جسٹس گوائی نے عالمی انسانی حقوق کی تاریخی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے 1945 کے اقوام متحدہ کے چارٹر اور 1948 کے ’یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ (UDHR) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اعلامیے نے انسانی وقار، مساوات اور آزادی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کو بھی یکساں اہمیت دی جانے لگی۔
صرف اقتصادی ترقی نہیں، انسانی وقار بھی ترقی کا پیمانہ
جسٹس بی آر گوائی نے پائیدار ترقی کے عالمی سفر کا ذکر کرتے ہوئے 1972 کی اسٹاک ہوم کانفرنس، 1987 کی برنٹ لینڈ کمیشن رپورٹ ’Our Common Future‘ اور 1992 کے ریو ارتھ سمٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کی بنیادی روح یہی ہے کہ موجودہ نسل کی ضروریات اس طرح پوری کی جائیں کہ آنے والی نسلوں کے حقوق اور وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ جسٹس گوائی کے مطابق ترقی کا حقیقی مفہوم صرف مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں اضافہ نہیں، بلکہ ماحولیات کا تحفظ، سماجی مساوات اور انسانی زندگی کے وقار کو برقرار رکھنا بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



