نئی دہلی: 1987 میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ڈگری اور مسائل حل کرنے کا جذبہ لیے ایک نوجوان کمپیوٹر پروگرامر نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) میں قدم رکھا تھا۔ اس وقت شاید انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن انہیں بھارت کی سب سے بڑی اور معروف کاروباری سلطنت ’ٹاٹا گروپ‘ کی قیادت سونپی جائے گی۔ بغیر کسی بڑے خاندانی نام، وراثت یا اثر و رسوخ کے اپنی محنت سے مقام بنانے والے نٹرَاجن چندرشیکھرن، جنہیں ساتھی پیار سے ’چندرا‘ کہتے ہیں، اب ٹاٹا سنز کے چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ فروری 2027 میں اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد وہ مزید ایک مدت کے لیے عہدے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ٹاٹا گروپ میں ان کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط شاندار کاروباری سفر کے ایک اہم باب کا اختتام ہونے جا رہا ہے۔
استعفے کی خبر سے شیئر بازار میں ہلچل، ایک ہی دن میں 68 ہزار کروڑ روپے کا نقصان
این. چندرشیکھرن کے تیسری مدت کی دوڑ سے باہر ہونے کی خبر سامنے آتے ہی شیئر بازار میں ٹاٹا گروپ کی لسٹڈ کمپنیوں کے حصص میں زبردست فروخت دیکھی گئی۔ قیادت میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے تیزی سے منافع وصول کیا، جس کے نتیجے میں گروپ کی 17 لسٹڈ کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 68,119 کروڑ روپے کم ہوکر 26.32 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔
بڑی کمپنیوں پر سب سے زیادہ اثر
ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS): فروخت کا سب سے بڑا اثر TCS پر پڑا۔ کمپنی کے حصص 4.79 فیصد تک گر کر 2,323.30 روپے پر بند ہوئے، جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو 42,440 کروڑ روپے کم ہوکر 8.40 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔
ٹائٹن (Titan): ٹائٹن کے حصص میں تقریباً 2 فیصد کی کمی ہوئی اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 9,304 کروڑ روپے کی کمی آئی۔
دیگر کمپنیاں: ٹاٹا موٹرز پیسنجر وہیکلز (TMPV) کی مارکیٹ کیپ 4,898 کروڑ روپے، ٹاٹا اسٹیل کی 4,745 کروڑ روپے اور ٹاٹا کنزیومر کی 3,098 کروڑ روپے کم ہوئی۔ اس کے علاوہ ٹاٹا پاور، انڈین ہوٹلز، ٹرینٹ اور ٹاٹا ایلیکسی کے حصص بھی منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئے۔ تاہم، اس کے برعکس ٹاٹا موٹرز کمرشل کی مارکیٹ کیپ میں 1,786 کروڑ روپے اور ٹاٹا کیپٹل کی مارکیٹ کیپ میں 700 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔
ٹرینی پروگرامر سے کاروباری دنیا کے بڑے نام تک کا سفر
1987 میں جب چندرشیکھرن نے TCS میں قدم رکھا تھا، اس وقت ہندوستان کی آئی ٹی صنعت ابتدائی مرحلے میں تھی۔ انٹرنیٹ کا دور شروع نہیں ہوا تھا اور سافٹ ویئر کی برآمدات بھی محدود تھیں۔ اس وقت TCS کو ایک قابل اعتماد آؤٹ سورسنگ کمپنی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ چندرا کی سب سے بڑی طاقت صارفین کی ضروریات کو گہرائی سے سمجھنا تھی۔ انہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک سیلز، ڈلیوری اور عالمی آپریشنز کے شعبوں میں کام کرتے ہوئے مسلسل ترقی کی۔
2009 کی عالمی مندی اور TCS کی کایا پلٹ
2009 میں عالمی مالیاتی بحران کے شدید دور کے دوران چندرشیکھرن کو TCS کا سی ای او اور مینیجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا۔ جب دنیا بھر کے بینک اور کمپنیاں آئی ٹی بجٹ میں کمی کر رہی تھیں، اس وقت چندرا نے پیچھے ہٹنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے بینکاری کے علاوہ نئے شعبوں اور نئے ممالک میں کاروبار کو وسعت دی۔ روایتی آؤٹ سورسنگ سے آگے بڑھتے ہوئے TCS کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اینالیٹکس اور کنسلٹنگ کے شعبوں میں ایک اہم کمپنی بنایا۔ ان کے 8 سالہ سی ای او دور میں 2012 میں TCS نے سالانہ آمدنی کے معاملے میں 10 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کیا۔ TCS بھارت کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سب سے بڑی نجی آجر کمپنی بن گئی۔
2017: ٹاٹا سنز کے پہلے غیر پارسی اور پیشہ ور چیئرمین
سائرس مستری کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد جنوری 2017 میں چندرشیکھرن کو ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ’ٹاٹا سنز‘ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ ٹاٹا گروپ کی تاریخ میں اس اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنے والے پہلے پیشہ ور ایگزیکٹو اور پہلے غیر پارسی شخص بنے۔
’ون ٹاٹا‘ اور مستقبل کا وژن
ٹاٹا سنز کی قیادت سنبھالنا TCS چلانے سے بالکل مختلف ذمہ داری تھی۔ چندرشیکھرن نے ’ون ٹاٹا‘ کے تصور کو فروغ دیا، جس کا مقصد ٹاٹا گروپ کی درجنوں آزاد کمپنیوں کے درمیان تال میل اور تعاون کو بڑھانا تھا۔ رَتن ٹاٹا نے حصولِ ملکیت اور بڑے کاروباری سودوں کے ذریعے گروپ کی عالمی توسیع پر توجہ دی تھی، جبکہ سائرس مستری نے موجودہ اثاثوں کی تنظیم نو اور مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ مرکوز کی۔ اس کے برعکس این. چندرشیکھرن نے مستقبل کی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرکے ٹاٹا گروپ کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں ایئر انڈیا کی ٹاٹا گروپ میں واپسی، الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹر چپس، بیٹری مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور ٹاٹا ڈیجیٹل (ٹاٹا نیو) جیسے بڑے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ ایک میراتھن رنر کی طرح انہوں نے کاروبار کو بھی صبر، مستقل مزاجی اور طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا۔
ٹاٹا سنز میں نیا موڑ، جانشین کی تلاش شروع
این. چندرشیکھرن کے فیصلے کے بعد ٹاٹا گروپ میں قیادت کی تبدیلی کا باضابطہ عمل شروع ہوگیا ہے۔ ٹاٹا سنز کے اہم شیئر ہولڈرز سر دوراب جی ٹاٹا ٹرسٹ اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ نے ان کی مدت ملازمت میں مزید 5 سال کی توسیع کی متفقہ طور پر سفارش کی تھی۔ نامزدگی اور معاوضہ کمیٹی نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ تاہم، 24 فروری 2026 کو ٹاٹا سنز بورڈ کی میٹنگ میں ایک ڈائریکٹر کی جانب سے اس تجویز کی حمایت نہ کیے جانے کے باعث اتفاقِ رائے قائم نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد چندرشیکھرن نے خود عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ بورڈ کو جانشینی کی منصوبہ بندی کے عمل میں کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نئے چیئرمین کے انتخاب کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی
سر دوراب جی ٹاٹا ٹرسٹ نے اعلان کیا ہے کہ ٹاٹا سنز کے ’آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن‘ کے تحت جلد ایک سلیکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی نئے چیئرمین کے نام کی سفارش ایک منظم، بروقت اور ہموار طریقے سے کرے گی، تاکہ فروری 2027 تک قیادت کی منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جاسکے۔ اب پوری بھارتی کاروباری دنیا اور سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ 150 سال سے زیادہ پرانی اس عظیم بھارتی کاروباری سلطنت کی باگ ڈور اگلی بار کس کے ہاتھوں میں سونپی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

