Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court CJP Protest: ’’جانچ کریں، ایکشن نہ لیں’’، احتجاج کے دوران لاٹھی چارج پر 8 ریاستوں کو سپریم کورٹ کا نوٹس

 سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر ہوئے احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج پر کہا کہ معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس نے جوابدہی طے کرنے کی بات بھی کہی۔

نئی دہلی: دہلی کے جنترمنترپراحتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ لاٹھی چارج اورآنسوگیس کے استعمال کے معاملے کی منگل (28 جولائی) کوسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا کہ اس پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے اورذمہ دارافراد کا تعین بھی کیا جانا چاہئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں احتجاج پرامن اندازمیں جاری تھا، لیکن بعد میں اچانک تشدد کیسے بھڑکا، اس کی جانچ ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اس کی دوممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں، یا توپولیس نے ضرورت سے زیادہ سختی کی، یا پھراحتجاج میں ایسے عناصرشامل ہوگئے، جوجان بوجھ کرتشدد پھیلانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب احتجاج سے متعلق واضح پروٹوکول تیارہوجائے گا توجواب دہی طے کرنا بھی آسان ہوجائے گا۔

پولیس کوطاقت کے استعمال سے گریزکرنا چاہئے: عدالت

سماعت کے دوران درخواست گزارکے وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ اگرکوئی شخص تشدد میں ملوث ہوتوپولیس اس کے خلاف ایف آئی آردرج کرسکتی ہے، لیکن جہاں تک ممکن ہوطاقت کے استعمال سے گریزکیا جانا چاہئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران کچھ ایسے پولیس اہلکاربھی موجود تھے، جووردی میں نہیں تھے، اسلحہ لے کرچل رہے تھے اورانہوں نے بھی طاقت کا استعمال کیا۔ درخواست گزارکے وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ سابق چیف جسٹس کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے تاکہ واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت مستقبل کے لئے رہنما اصول بنانے کی بات کررہی ہے، جس کا خیرمقدم ہے، لیکن ماضی کے واقعات کی شفاف جانچ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

وکیل نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ احتجاج میں شریک افراد، خصوصاً طلبہ اورکم عمربچوں کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شناخت کرکے اسے عام کرنے پرپابندی عائد کی جائے۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے بہارمیں ہونے والے احتجاج کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں 13 سال تک کے کم عمربچوں کوبھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اس موقع پرسینئروکیل پرشانت بھوشن نے جُنید نامی شخص کے مبینہ ہراسانی کے معاملے کا ذکرکیا۔ اس پرسالیسٹرجنرل نے کہا کہ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔

سپریم کورٹ نے اترپردیش سمیت 8 ریاستوں کوجاری کیا نوٹس

سپریم کورٹ نے اس کیس میں اترپردیش سمیت 8 ریاستوں کونوٹس جاری کیا ہے۔ ان میں اترپردیش، بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، آسام، کیرالہ اورگجرات شامل ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ مختلف ریاستوں سے ایسے معاملات سامنے آئے ہیں، جن میں اظہارِرائے کی آزادی اورزندگی کے بنیادی حق کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ دہلی میں پولیس کی جانب سے مبینہ طورپرضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پولیس اپنی تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے، تاہم فی الحال سخت کارروائی سے گریزکرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے لاٹھی چارج، پیلیٹ گن اورآنسوگیس کے استعمال کے الزامات بھی رکھے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان واقعات میں بعض افراد کی آنکھوں کونقصان پہنچا، جبکہ میڈیا سے وابستہ کئی افراد بھی زخمی ہوئے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read