نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک سمیت مسابقتی امتحانات میں مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک کے معاملات کے خلاف مرکزی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی کابینہ نے جمعہ کو پیپر لیک کے معاملات میں سزا مزید سخت کرنے والے بل کو منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق یہ بل اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں طلبہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر بھی اس معاملے پر مسلسل ہنگامہ جاری ہے۔
وزیراعظم نے ایک روز قبل دیے تھے بڑے اشارے
دراصل، کابینہ کے اجلاس سے ایک روز قبل وزیراعظم مودی نے جمعرات کی دیر رات تین منٹ کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے اس سمت میں بڑے اشارے دیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جمعہ کو ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں پیپر لیک کے معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں اور قصورواروں کو سخت سزا دینے والے قانون کے مسودے پر غور کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پیپر لیک کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے ملک کے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ حکومت اس مسئلے سے سختی سے نمٹنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط قانونی نظام بنایا جائے گا۔
پیپر لیک معاملے میں اب تک 13 افراد گرفتار
اس سے قبل جمعرات کی صبح بھی وزیراعظم مودی نے پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری طور پر ضروری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اب کابینہ کی منظوری کے بعد سب کی نظریں اگلے ہفتے پارلیمنٹ پر ہوں گی، جہاں اس اہم بل کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ وہیں نیٹ پیپر لیک معاملے میں اب تک مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دریں اثنا مرکزی حکومت نے جمعرات کو وزارت تعلیم میں بھی بڑی انتظامی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے 1994 بیچ کے راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو اعلیٰ تعلیم کے محکمے کا نیا سکریٹری مقرر کیا ہے۔ انہوں نے ونیت جوشی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

