نئی دہلی : نیٹ پیپر لیک معاملے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن کا احتجاج پارلیمنٹ میں مسلسل جاری ہے۔ جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار کے باہر احتجاج کیا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے ایوان میں آ کر بیان دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’جب وزیر اعظم ایوان میں آ کر جواب دیں گے، تبھی ہم ان کی باتوں کو درست مانیں گے۔ آدھی رات کو ویڈیو جاری کرنے کے بجائے انہیں پارلیمنٹ میں آ کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔‘‘
अगर प्रधानमंत्री मोदी बोलना चाहते हैं तो सदन में आकर बोलें, तभी हम उनकी बात को authentic समझेंगे।
उन्हें रात में 12 बजे बयान देने के बजाए दिन में संसद में आकर बोलना चाहिए।
: कांग्रेस अध्यक्ष और राज्यसभा में नेता प्रतिपक्ष श्री @kharge pic.twitter.com/0HLJQkWZqW
— Congress (@INCIndia) July 24, 2026
اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان پیپر لیک معاملے پر حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے تمام این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ کے لیے وہپ جاری کرتے ہوئے انہیں جمعہ کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی روز دوپہر ایک بجے مرکزی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں پیپر لیک کے ملزمان کے لیے سخت سزا سے متعلق مجوزہ قانون پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی اپنے ویڈیو پیغام میں اعلان کر چکے ہیں کہ اس تجویز کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ادھر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کانگریس پر طلبہ کے احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی باتوں کو اب عوام سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ پارٹی مسلسل انتخابات ہار رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے دوران عوامی حمایت بڑھنے کے بعد کانگریس نے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کر دی۔
نشی کانت دوبے نے مزید کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت کو پیپر لیک کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جواب دینا چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ سیاسی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




