واشنگٹن: امریکی فوج نے بدھ کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر نئے فضائی حملے شروع کر دیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی عام جہاز رانوں اور خطے کے سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو دھمکانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
ٹرمپ کی سخت دھمکی
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، ان حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر فائرنگ کرتا ہے تو امریکہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’اب سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ بمباری کرکے ایران کے کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا، چاہے وہ تہران کے قریب ہو یا دارالحکومت کے اندر واقع ہو‘‘
ایران کی جوابی دھمکی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کے جواب میں ایران کے مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ایران مغربی ایشیا سے تیل کی تمام برآمدات روک دے گا اور پورے خطے میں تیل، گیس، بجلی اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ایران نے مزید کہا کہ امریکہ کی مسلسل دھمکیاں اس جنگ کو صرف خطے تک محدود نہیں رکھیں گی بلکہ اس کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کر دیں گی۔
امریکی عوام کی رائے
گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے واشنگٹن پوسٹ۔ایپسوس سروے کے مطابق، 68 فیصد امریکی بالغ شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ لڑنا درست فیصلہ نہیں ہوگا، جبکہ 28 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی۔
کشیدگی میں مسلسل اضافہ
ادھر منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


