نئی دہلی: سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے رکن اورسینئر وکیل وریندرورشٹھ نے بدھ (22 جولائی 2026) کوقومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) میں ایک تحریری شکایت داخل کی ہے۔ یہ شکایت 20 جولائی کوجنترمنترپر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف دہلی پولیس کی مبینہ کارروائی کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن دہلی پولیس کی کارروائی کی فوری اورغیرجانب دارانہ جانچ کرائے۔ وکیل نے الزام لگایا ہے کہ پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔
درخواست کے مطابق، نہ صرف پولیس اہلکاروں بلکہ سادہ لباس میں موجود بعض افراد نے بھی کئی طالبات کوبری طرح مارا پیٹا، جن میں کم عمرلڑکیاں بھی شامل تھیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اگریہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تویہ انسانی حقوق اورقانون کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ وریندرورشٹھ نے بتایا کہ شکایت این ایچ آرسی کوای میل اورہارڈ کاپی دونوں ذرائع سے بھیجی گئی ہے۔ تاہم، کمیشن کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
گزشتہ 25 دنوں سے بھوک ہڑتال پرہیں سونم وانگچک
دوسری جانب جنترمنترپرکاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں نیٹ امتحان کے مبینہ پیپرلیک کے خلاف ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج جاری ہے۔ اسی دوران کارکن سونم وانگچک گزشتہ 25 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ احتجاج میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب دہلی پولیس نے 18 جولائی کو سونم وانگچک کوزبردستی اسپتال منتقل کیا۔ اس کارروائی کے بعد سی جے پی کارکنوں اورطلبہ نے احتجاج تیزکردیا۔
طلبا کررہے ہیں وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ
پیر(20 جولائی) کوسی جے پی نے مرکزی حکومت کے خلاف اورمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ”پارلیمنٹ چلومارچ“ نکالا۔ مارچ کے دوران مظاہرین اورپولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پرپتھراؤکیا گیا، جس کے بعد لاٹھی چارج اورآنسوگیس کے گولے استعمال کئے گئے۔ اس تصادم میں متعدد پولیس اہلکاروں اورمظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

