Bharat Express DD Free Dish

Entertainment News: بتیس برس بعد پھر زندہ ہوگی محبت کی لازوال داستان، ’1942: اے لو اسٹوری‘ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سینما گھروں میں ہوگی رلیز

جیکی شراف نے کہا کہ فلم کی آواز کو بھی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صاف اور معیاری بنایا گیا، جس پر 2 سو سے زائد گھنٹے صرف کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ یادگار فلم اب ایک نئے انداز اور بہتر تجربے کے ساتھ جلد دوبارہ سینما گھروں کی زینت بننے والی ہے۔

ممبئی: کچھ فلمیں صرف تفریح کے لیے نہیں بنتیں بلکہ وہ بھارتی سنیما کی تاریخ کے ان سنہرے اوراق کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ہماری یادوں میں دھندلا جاتے ہیں۔ 1994 میں ودھو ونود چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی ’1942: اے لو اسٹوری‘ بھی ایسی ہی ایک شاہکار فلم تھی، جسے بھارتی سنیما کی تاریخ میں سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے۔ اب فلم کے سازندوں نے اسے جدید تکنیکی معیار کے ساتھ دوبارہ ریلیز کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

جیکی شراف نے ری ریلیز کا کیا اعلان

جمعرات کے روز اداکار جیکی شراف نے انسٹاگرام پر فلم کی دوبارہ ریلیز کی اطلاع دیتے ہوئے اس سے متعلق چند تصاویر شیئر کیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’1942: اے لو اسٹوری‘ محبت اور حب الوطنی کی ایک لازوال داستان ہے، جو پہلی بار 15 جولائی 1994 کو ریلیز ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی ریلیز کے 32 سال مکمل ہونے کے بعد اسے 8کے کوالیٹی میں نئے سرے سے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کی آواز کو ڈولبی 5.1 سراؤنڈ ساؤنڈ کے ساتھ مزید بہتر بنایا گیا ہے۔

2 لاکھ سے زائد فریموں پر ہزاروں گھنٹے کی محنت

جیکی شراف کے مطابق فلم کی بحالی کا کام اٹلی کے ایل امیجینے رتروواتا، بولونیا اور بھارت کی پرساد فلم لیب، چنئی کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ فلم کے ہر فریم کو نہایت باریکی سے بہتر بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کے 2 لاکھ 33 ہزار 7 سو 59 فریموں پر تقریباً 8 ہزار 5 سو 18 گھنٹے کام کیا گیا، جس کے دوران رنگ، تصویر کی کوالیٹی اور دیگر تکنیکی پہلوؤں میں نمایاں بہتری لائی گئی۔

جدید آواز کے ساتھ نیا سنیما تجربہ

جیکی شراف نے مزید کہا کہ فلم کی آواز کو بھی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صاف اور معیاری بنایا گیا، جس پر 2 سو سے زائد گھنٹے صرف کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ یادگار فلم اب ایک نئے انداز اور بہتر تجربے کے ساتھ جلد دوبارہ سینما گھروں کی زینت بننے والی ہے۔

آزادی کی جدوجہد اور محبت کی لازوال کہانی

ودھو ونود چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی ‘1942: اے لو اسٹوری‘ بھارت کی تحریکِ آزادی، خصوصاً 1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے پس منظر میں محبت اور حب الوطنی کی ایک نہایت خوبصورت اور جذباتی کہانی پیش کرتی ہے۔ فلم کی کہانی نرین (انیل کپور) اور راجیشوری عرف رجّو (منیشا کوئرالا) کے گرد گھومتی ہے۔ نرین ایک برطانوی حامی سیاست دان کا بیٹا ہے، جبکہ رجّو ایک پُرجوش مجاہدِ آزادی کی بیٹی ہے۔ جیسے جیسے آزادی کی تحریک شدت اختیار کرتی ہے، دونوں محبت کرنے والوں کو خاندانی وابستگی، سیاسی نظریات اور ذاتی قربانیوں کے درمیان سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read