نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ٹریفک کے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے لیے قومی شاہراہ-19 (این ایچ-19) اور وارانسی رنگ روڈ کو دریائے گنگا کے کنارے آپس میں جوڑنے والے 6 لین ایلیویٹڈ لنک کوریڈور کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی تخمینی لاگت 14,447.64 کروڑ روپے ہوگی، جبکہ اسے ہائبرڈ اینیوٹی ماڈل (ایچ اے ایم) کے تحت تعمیر کیا جائے گا۔ سرکاری بیان کے مطابق تقریباً 46.039 کلومیٹر طویل اس منصوبے کے تحت 6 لین ایلیویٹڈ مین کوریڈور، گنگا پر آئیکونک کیبل اسٹیڈ برج، ایکسٹرا ڈوزڈ فوٹ اوور برج، لوپس، ریمپس، لنک روڈز اور سروس روڈز تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے پر سول تعمیرات کے لیے 6,037.85 کروڑ روپے جبکہ زمین کے حصول کے لیے 541.11 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق یہ کوریڈور این ایچ-19 اور وارانسی رنگ روڈ کے درمیان بغیر رکاوٹ رابطہ فراہم کرے گا، جس سے شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا۔ اس سڑک کو 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اوسط سفری وقت تقریباً 60 منٹ سے کم ہو کر صرف 20 منٹ رہ جائے گا، جبکہ این ایچ-19 سے کاشی ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے میں لگنے والا وقت بھی 50 منٹ سے گھٹ کر تقریباً 25 منٹ ہو جائے گا۔
سیاحت اور مذہبی مقامات تک رسائی مزید آسان ہوگی
حکومت نے بتایا کہ یہ منصوبہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے قومی شاہراہوں، ریلوے اسٹیشنوں، لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے اور رام نگر آئی ڈبلیو اے آئی پورٹ کے ساتھ بہتر ملٹی موڈل رابطہ قائم ہوگا۔ اس کے علاوہ کاشی وشوناتھ مندر، بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)، نمو گھاٹ، رام نگر قلعہ اور وارانسی کے تاریخی گھاٹوں تک رسائی بھی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گی۔ کابینہ کے مطابق یہ منصوبہ مشرقی اتر پردیش کے اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنائے گا۔ اس سے مال برداری زیادہ مؤثر ہوگی، سڑکوں کی حفاظت میں اضافہ ہوگا اور سیاحت و مذہبی سفر کو فروغ ملے گا، جس سے خطے کی پائیدار اقتصادی ترقی کو بھی رفتار ملے گی۔ منصوبے کے تحت بی ایچ یو/لنکا سے سامنے گھاٹ تک ایک ایلیویٹڈ شاخی راستہ (اسپر) بھی تعمیر کیا جائے گا، جس سے لنکا چوراہے پر روزانہ لگنے والے شدید ٹریفک جام میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ذریعے مقامی اور طویل فاصلے کی ٹریفک کو الگ الگ راستے فراہم کیے جائیں گے۔
جدید انجینئرنگ خصوصیات بھی شامل
حکومت کے مطابق منصوبے میں گنگا پر 910 میٹر طویل کیبل اسٹیڈ برج، 1.32 کلومیٹر طویل ایکسٹرا ڈوزڈ فوٹ اوور برج، ٹریولیٹر کی سہولت، مالویہ برج کے اوپر ریلوے اوور برج (آر او بی)، ایمرجنسی پارکنگ بے، نوائز بیریئر، آرائشی روشنی اور وارانسی کی ثقافتی وراثت سے متاثر تعمیراتی ڈیزائن شامل ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہر سال 15 کروڑ سے زیادہ سیاح اور عقیدت مند وارانسی آتے ہیں۔ ایسے میں یہ کوریڈور نہ صرف مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی مقامات تک رسائی آسان بنائے گا بلکہ شہر کے موجودہ سڑک نیٹ ورک پر دباؤ بھی کم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی چندولی ایس ای زیڈ، لال بہادر شاستری ہوائی اڈہ، کاشی، بنارس، وارانسی سٹی اور پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن سمیت متعدد اہم لاجسٹکس مراکز کو بھی ایک دوسرے سے بہتر انداز میں جوڑا جائے گا۔ حکومت کے مطابق مجوزہ گنگا ایلیویٹڈ کوریڈور وارانسی میں جدید، تیز رفتار اور محفوظ شہری نقل و حمل کا نیا نظام قائم کرے گا، جس سے ٹریفک جام میں نمایاں کمی، ملٹی موڈل رابطے میں بہتری، سیاحت اور مذہبی سرگرمیوں کو فروغ اور “ترقی یافتہ بھارت” کے وژن کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

