Bharat Express DD Free Dish

Cabinet Approval

مینوفیکچرنگ، سروس، ٹیکنالوجی اور اختراع پر مبنی شعبوں میں توسیع کو ملے گا فروغ۔ کامیاب اور ترقی کی صلاحیت رکھنے والے ایس ایم ایز کو ’پیشنٹ گروتھ ایکویٹی کیپیٹل‘ فراہم کیا جائے گا۔

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت کے مطابق یہ کوریڈور این ایچ-19 اور وارانسی رنگ روڈ کے درمیان بغیر رکاوٹ رابطہ فراہم کرے گا، جس سے شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا۔ اس سڑک کو 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اوسط سفری وقت تقریباً 60 منٹ سے کم ہو کر صرف 20 منٹ رہ جائے گا، جبکہ این ایچ-19 سے کاشی ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے میں لگنے والا وقت بھی 50 منٹ سے گھٹ کر تقریباً 25 منٹ ہو جائے گا۔

حکومت کے مطابق یہ منصوبہ 2031 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جس سے ٹریفک جام میں کمی، آلودگی میں کمی اور شہری نقل و حرکت میں بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ہی جے پور کو ایک جدید، پائیدار اور مستقبل کے لیے تیار شہر بنانے میں مدد ملے گی، جو ترقی یافتہ بھارت اور ترقی یافتہ راجستھان کے وژن کو آگے بڑھائے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی کابینہ کمیٹی نے اروناچل پردیش میں 40 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے دو بڑے ہائیڈرو پروجیکٹس کو منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ نے راجستھان کی ایچ پی سی ایل ریفائنری پروجیکٹ، ایچ آر ایل، کی لاگت بڑھا کر 79,459 کروڑ روپے کرنے اور اضافی 8,962 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں میں کسانوں کے مفاد، صاف توانائی کی ترقی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

ترمیم شدہ اُڑان اسکیم بھارت کے فضائی نیٹ ورک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دور دراز علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑا جائے گا بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

یہ منصوبہ پی ایم گتی شکتی کے تحت اقتصادی اور لاجسٹک ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ زرعی تجارت، سیاحت اور علاقائی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گا، جس سے اتر پردیش میں مجموعی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

اپریل 2020 میں کووڈ-19 وبا کے دوران حکومت نے پریس نوٹ 3 جاری کر کے ایسی سرمایہ کاری کے لیے حکومتی منظوری لازمی قرار دی تھی جو بھارت سے زمینی سرحد رکھنے والے ممالک سے آتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اس بات کو روکنا تھا کہ مشکل معاشی حالات میں بیرونی کمپنیاں بھارتی کمپنیوں کو سستے داموں خرید نہ سکیں۔