تمل ناڈو کی دراوڑی سیاست کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے قلعے میں ایک ایسی سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے جس نے برسوں سے اقتدار کے ایوانوں پر قابض جماعتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ریاست کے ’’سنگھم‘‘ کے نام سے مشہور سابق آئی پی ایس افسر کے. انّاملائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو خیرباد کہہ کر جیسے ہی اپنی نئی عوامی تحریک ’’ادھو نمّا ایّکم‘‘ (یہ ہماری تحریک ہے) کا اعلان کیا، جنوبی ہند کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی قیادت سے ملاقات کے بعد استعفیٰ دینے والے انّاملائی کے انداز سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ اب کسی جماعت کے سائے تلے سیاست کرنے کے بجائے خود قیادت کے مرکز بننا چاہتے ہیں۔ انّاملائی کے اس فیصلے کا اثر زمینی سطح پر بھی تیزی سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے آغاز کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر 13 لاکھ سے زائد افراد نے اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کروا کر اپنی حمایت کا اظہار کیا، جسے تمل ناڈو کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیر رات جب انّاملائی چنئی ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہزاروں حامیوں نے ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ گونجتے نعروں اور عوامی جوش و خروش نے یہ تاثر دیا کہ ریاست میں ایک نئی سیاسی قوت ابھر رہی ہے۔ کانچی پورم کے تاریخی کاماکشی امّن مندر میں آدھی رات کو جمع ہونے والے عقیدت مندوں اور انّاملائی کی کامیابی کے لیے خصوصی مذہبی رسومات نے بھی اس تحریک کو مزید توجہ دلائی۔
’’ادھو نمّا ایّکم‘‘ کا آغاز
تمل ناڈو کی سیاست ہمیشہ سے شخصیت پر مبنی قیادت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کامراج، ایم جی آر، کروناندھی اور جے للیتا جیسے رہنماؤں کے بعد حالیہ برسوں میں اداکار وجے کی جماعت ٹی وی کے کو ملنے والی عوامی پذیرائی بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انّاملائی نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نئی تحریک کی بنیاد رکھی ہے۔
انہوں نے اس تحریک کو بھارت کے سابق صدر اور ممتاز سائنس دان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نظریات سے منسوب کرتے ہوئے ’’کلام اسکول آف آئیڈیالوجی‘‘ کا نام دیا ہے، جو قوم پرستی، بہترین کارکردگی اور قربانی کے اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
عوامی تحریک سے سیاسی جماعت تک
اگرچہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انّاملائی کی قیادت میں بی جے پی کو متوقع کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، لیکن ایک آزاد اور متحرک سیاسی چہرے کے طور پر ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ ان کی نئی تحریک کو فی الحال ایک عوامی مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے باقاعدہ سیاسی جماعت کی شکل دی جا سکتی ہے۔
ہدف 2031 کا اسمبلی انتخاب
انّاملائی نے واضح اشارہ دیا ہے کہ ان کا منصوبہ فوری سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کی نظریں براہِ راست 2031 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ جلد ہی ریاست بھر میں ایک بڑی پدیاترا (عوامی مارچ) کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ اپنی عوامی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اگر 24 گھنٹوں میں 13 لاکھ افراد کی شمولیت کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی روایتی سیاسی جماعتیں انّاملائی کے اس نئے سیاسی تجربے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ 2031 کا انتخابی معرکہ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


