سان فرانسسکو: امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے شہر لانگ ویو میں واقع ایک پلپ اور پیپر مل میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے کئی افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی شروع کر دی۔
کیمیکل ٹینک دھماکے سے تباہی
سوشل میڈیا پر جاری مشترکہ بیان میں نپون ڈائنووے پیکیجنگ کمپنی اور مقامی حکام نے بتایا کہ ٹینک دھماکے کے نتیجے میں کئی افراد بری طرح زخمی ہوئے جبکہ کچھ لوگوں کی جان بھی چلی گئی۔ حالانکہ، مرنے والوں کی حتمی تعداد ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ مقامی پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ اور کمپنی حکام کے مطابق، منگل کی صبح نپون ڈائنووے پیکیجنگ فیکٹری میں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیکل سے بھرے ٹینک میں زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ کیمیکل کاغذ تیار کرنے کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے۔
گورنر باب فرگوسن کا اظہار افسوس
واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن نے سوشل میڈیا پر حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی محکمہ ماحولیات کی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “میری ٹیم اور میں لانگ ویو میں ہونے والے اس بڑے کیمیکل دھماکے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ریاستی محکمہ ماحولیات کے اہلکار موقع پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ جان کر انتہائی دکھ ہوا کہ اس حادثے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ میری ہمدردیاں متاثرہ ملازمین، ان کے اہل خانہ اور امدادی کارروائیوں میں مصروف افراد کے ساتھ ہیں۔”
فیکٹری میں ریسکیو آپریشن جاری
لانگ ویو فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ نپون ڈائنووے فیکٹری میں پیش آنے والے اس خطرناک کیمیکل حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ کیمیکل ٹریٹمنٹ والے بڑے ٹینک کے پھٹنے سے کئی افراد جھلس گئے اور زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ فی الحال عام شہریوں کے لیے کسی بڑے خطرے کی اطلاع نہیں ہے، پھر بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر لوگوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
حادثے کی وجوہات کی تحقیقات
یہ فیکٹری واشنگٹن اور اوریگن کی سرحد کے قریب دریائے کولمبیا کے کنارے واقع ہے۔ واشنگٹن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ایکولوجی کے مطابق، یہاں کرافٹ پلپ اور پیپر مل کے ساتھ ساتھ لیکوئڈ پیکیجنگ پلانٹ بھی موجود ہے۔ حکام نے بتایا کہ دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ماہرین کی ٹیمیں جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



