نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دارالحکومت دہلی میں عظیم قبائلی لیڈر برسا منڈا کی 150ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ عظیم ’قبائلی کلچر کنکلیو‘ سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی سماج کو سناتن روایت کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی برادری کی فطرت سے وابستگی، جنگلوں اور پہاڑوں کے ساتھ ان کا رشتہ اور اجتماعی طرز زندگی دراصل ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے۔ امت شاہ نے مذہب تبدیلی، ثقافتی بگاڑ اور قبائلی سماج کو اس کی جڑوں سے الگ کرنے کی کوششوں پر بھی سخت تنقید کی۔ یہ عظیم الشان پروگرام دہلی میں منعقد کیا گیا، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں قبائلی افراد اپنی روایتی پوشاک، لوک موسیقی اور ثقافتی ساز و سامان کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی، وزیر کیدار کشیپ، رکن پارلیمنٹ مہیش کشیپ اور دیگر کئی سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ تقریب میں قبائلی ثقافت، روایتی رقص اور لوک فنون کی جھلک نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔
#WATCH | Delhi: At the “Janjati Sanskritik Samagam”, Union Home Minister Amit Shah says, “Thousands of years ago, in the Treta Yuga, Lord Rama, by eating Shabari’s leftover berries, explained to us very clearly that we are all one. Those who want to divide us don’t know that when… pic.twitter.com/gs7d5aX2kf
— ANI (@ANI) May 24, 2026
اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے کبھی برسا منڈا کو نہیں دیکھا، لیکن اس اجتماع میں شریک عوام کے جذبے، حوصلے اور ثقافتی شعور میں انہیں برسا منڈا کی روح زندہ محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک ثقافتی پروگرام نہیں بلکہ “اُلگولان” یعنی برسا منڈا کی تحریک کے بعد ملک کو ایک لڑی میں پرو دینے والا سب سے بڑا سماجی اور ثقافتی اجتماع ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ قبائلی سماج صدیوں سے فطرت کی پوجا کرتا آیا ہے اور یہی روایت اسے سناتن ثقافت سے جوڑتی ہے۔ ان کے مطابق پانی، جنگل اور پہاڑ قبائلی زندگی کا حصہ ہیں اور یہ طرز حیات دنیا کے لیے پائیدار زندگی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی سماج ہندوستانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے اور اس کی روایات کو محفوظ رکھنا پورے ملک کی ذمہ داری ہے۔
امت شاہ نے اپنے خطاب میں مذہب تبدیلی کے مسئلے پر بھی دوٹوک موقف اختیار کیا۔ انہوں نے بغیر کسی تنظیم یا گروہ کا نام لیے کہا کہ آئین ہر شہری کو اپنے مذہب اور روایات کے ساتھ عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، لیکن لالچ، دھوکے یا زبردستی مذہب تبدیل کرانا کسی کو بھی قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک منظم سازش کے تحت قبائلی سماج کو اس کی تہذیب اور روایت سے الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے رامائن کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام نے شبری کے بیر کھا کر اور نشاد راج کے قدم دھو کر یہ پیغام دیا تھا کہ ون واسی سماج اور سناتن روایت الگ نہیں بلکہ ایک ہی تہذیبی شعور کے دو حصے ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ جو لوگ قبائلی سماج اور سناتن ثقافت کے درمیان فرق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں ہندوستان کی اصل تاریخ اور تہذیبی بنیادوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں چھتیس گڑھ اور بستر خطے کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ماؤ نواز تشدد نے قبائلی علاقوں کی ترقی کو متاثر کیا اور ہزاروں قبائلی افراد اس تشدد کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور جن علاقوں میں کبھی سیکورٹی فورسز کے کیمپ تھے، وہاں اب ”بلدانی ویر گنڈادھور سیوا ڈیرا“ قائم کیے جا رہے ہیں۔ امت شاہ نے بتایا کہ تقریباً 70 کیمپوں کو عوامی سہولت مراکز میں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جہاں تعلیم، صحت، بینکاری، جنگلاتی مصنوعات کی پروسیسنگ، ہنر مندی کی تربیت اور سرکاری فلاحی اسکیموں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کے ذریعے حکومت کی 350 سے زائد اسکیموں کا فائدہ گاؤں کے آخری فرد تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے یکساں سول کوڈ یعنی یو سی سی پر بھی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں نافذ کیے گئے قوانین میں قبائلی برادریوں کے حقوق اور روایات کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ یو سی سی سے کسی بھی قبائلی روایت یا سماجی ڈھانچے میں مداخلت نہیں ہوگی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قبائلی سماج کی ترقی کو قومی ترجیح بنایا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں قبائلی فلاح کا بجٹ 28 ہزار کروڑ روپے تھا، جسے موجودہ حکومت نے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


