Bharat Express DD Free Dish

Tribal Cultural Conclave: ’قبائلی کلچر کنکلیو‘ میں منوج تیواری کا خطاب، کہا- ’قبائلی برادریاں بھی ملک کے مرکزی دھارے کا اہم حصہ ہیں‘

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج لال قلعہ کا میدان ہندوستانی جمہوریت کی حقیقی روح کی نمائندگی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ثقافتی اجتماع نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے اتحاد، تنوع اور بھائی چارے کا ایک بڑا پیغام ہے۔

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے تاریخی لال قلعہ میدان میں ’قبائلی کلچر کنکلیو‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے آئے قبائلی برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ پروگرام ’جن جاتی سرکشا منچ‘ کی جانب سے عظیم قبائلی لیڈر برسا منڈا کی 150ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے خصوصی طور پر شرکت کی اور قبائلی برادریوں کے کردار اور ان کی ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ منوج تیواری نے تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج لال قلعہ کا میدان ہندوستانی جمہوریت کی حقیقی روح کی نمائندگی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ثقافتی اجتماع نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے اتحاد، تنوع اور بھائی چارے کا ایک بڑا پیغام ہے۔ ان کے مطابق وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ کے نمائندے کے طور پر اس تقریب میں موجود ہیں اور قبائلی برادریوں کے ساتھ مل کر ان کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ آج بھارت کے مختلف حصوں جیسے اروناچل پردیش، تلنگانہ، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال سے قبائلی برادریوں کے لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی سماج ملک کے مرکزی دھارے سے الگ نہیں بلکہ اسی کا ایک مضبوط اور اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق دہلی جتنی دوسرے شہریوں کی ہے، اتنی ہی قبائلی برادریوں کی بھی ہے۔ تقریب میں شریک مختلف افراد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک شرکاء نے کہا کہ اس پروگرام میں ملک کے تقریباً 550 سے زائد قبائلی سماجوں کی نمائندگی دیکھنے کو مل رہی ہے، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا ”منی بھارت“ ایک جگہ جمع ہو گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مختلف قبائل کی ثقافت، روایتی لباس، بولیاں، موسیقی، ساز اور رہن سہن کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ ان کے مطابق یہ اجتماع نہ صرف ثقافتی تبادلے کا ذریعہ ہے بلکہ قبائلی مسائل اور مطالبات کو سامنے لانے کا بھی ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

ایک اور شریک نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ اس قبائلی ثقافتی پروگرام کو دیکھنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سبھی لوگ ”بھارت ماتا کی جے“ کے جذبے کے ساتھ ایک ہی مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں، تاکہ ملک کی قبائلی برادریوں کی ثقافت اور شناخت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس موقع پر کئی خواتین نے بھی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے ساتھ تقریباً 50 خواتین کی ٹیم آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں کی خدمت اور استقبال کے جذبے کے تحت انہوں نے مندروں سے لائے گئے تلک کے ساتھ آنے والے لوگوں کا خیر مقدم کیا، جس سے مہمان بے حد خوش ہوئے۔ ان کے مطابق ”اتتھی دیوو بھو“ یعنی ”مہمان بھگوان کا روپ ہوتا ہے“ کی روایت کو زندہ رکھنا ہندوستانی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔

ایک قبائلی خاتون نے کہا کہ انہیں یہاں آ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نئی دہلی صرف ثقافتی پروگرام میں شرکت کے لیے نہیں بلکہ قبائلی سماج کی حمایت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی برادری آج بھی کئی مسائل کا سامنا کر رہی ہے اور ایسے اجتماعات ان مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تقریب میں شریک ایک نوجوان نے کہا کہ وہ یہاں برسا منڈا کو خراج عقیدت پیش کرنے اور مختلف علاقوں سے آئے قبائلی لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اس کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف ثقافتی اتحاد کی مثال ہے بلکہ مختلف زبانوں اور علاقوں کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کا بھی ذریعہ بن رہا ہے۔ تقریب میں اتراکھنڈ کی روایتی پوشاک میں شریک ایک خاتون نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کا اتنا بڑا اور منظم پروگرام پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق مہمان نوازی، ثقافتی رنگا رنگی اور لوگوں کا جذبہ دیکھ کر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ پروگرام کے دوران قبائلی رقص، موسیقی اور روایتی فنون نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا اور لال قلعہ کا میدان رنگارنگ ثقافتی منظر پیش کرتا رہا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read