Bharat Express DD Free Dish

Warning! ACs Installed in Homes are Becoming ‘Time Bombs’: خبردار! گھروں میں لگے اے سی بن رہے ہیں ‘ٹائم بم’، نوئیڈا اور غازی آباد میں اچانک کیوں پھٹ رہے ہیں ایئر کنڈیشنر؟

دہلی-این سی آر کی شدید گرمی میں مسلسل چلنے والے ایئر کنڈیشنر اب بڑے حادثات کی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ نوئیڈا اور غازی آباد میں حالیہ اے سی دھماکوں کے واقعات نے ہائی رائز سوسائٹیوں میں رہنے والے لوگوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔

دہلی-این سی آر سمیت پورے شمالی ہندوستان میں اس وقت سورج آگ برسا رہا ہے۔ درجہ حرارت 45 ڈگری سے اوپر پہنچتے ہی گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنر (AC) بغیر رکے چوبیس گھنٹے چل رہے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گرمی سے راحت دینے والا یہی اے سی اس موسم میں ایک جان لیوا ‘ٹائم بم’ ثابت ہو رہا ہے؟ حال ہی میں نوئیڈا کے سیکٹر 100 واقع لوتھس بلیوارڈ سوسائٹی کی 27ویں منزل پر اے سی پھٹنے کے بعد پورا فلیٹ جل کر خاک ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے غازی آباد کی ایک ہائی رائز سوسائٹی میں بھی اے سی کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد ایک گھر میں شدید آگ لگ گئی تھی جس میں لاکھوں کا نقصان ہوا۔ اسی طرح دہلی کے ایک دفتر میں بھی اے سی بلاسٹ کے باعث اچانک دھواں پھیل گیا اور خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ان مسلسل واقعات نے ملک بھر میں تشویش بڑھا دی ہے۔

آخر اے سی کیوں پھٹ رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق اے سی میں دھماکے کی سب سے بڑی وجہ اس شدید گرمی میں اس کا مسلسل (نان اسٹاپ) چلنا ہے۔ جب باہر کا درجہ حرارت 45 ڈگری کے قریب ہو اور اے سی کو بغیر وقفے کے چلایا جائے تو اس کا کمپریسر حد سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اے سی میں استعمال ہونے والی ریفریجرینٹ گیس (جیسے R-32 یا R-410A) بعض حالات میں انتہائی حساس اور آتش گیر ہوتی ہے۔ اگر پائپ لائن میں معمولی لیکیج ہو اور ساتھ ہی شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ سے چنگاری پیدا ہو جائے تو یہ گیس خطرناک دھماکے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔کئی بار غیر معیاری یا غیر تربیت یافتہ مکینک کی جانب سے گیس بھرنے یا پرزے تبدیل کرنے میں غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بنتی ہے۔

یہ دھماکہ کتنا خطرناک ہے؟

اے سی کا دھماکہ عام آگ سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ کمپریسر پھٹنے سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ جاتے ہیں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اس کے فوراً بعد زہریلا دھواں اور جلتے پلاسٹک کی بو پورے کمرے کو بھر دیتی ہے، جس سے لوگوں کو بچنے کا بہت کم موقع ملتا ہے۔ہائی رائز عمارتوں میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ آگ اوپر کی منزلوں تک تیزی سے پھیلتی ہے اور وہاں سے انخلاء مشکل ہو جاتا ہے۔

مرمت میں لاپرواہی بڑا سبب

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ پیسے بچانے کے لیے غیر مستند مکینکس سے اے سی کی مرمت کرواتے ہیں۔ یہ افراد اکثر ناقص وائرنگ، سستے پارٹس یا غلط گیس پریشر استعمال کرتے ہیں، جو بعد میں شارٹ سرکٹ اور اوور لوڈنگ کا سبب بنتا ہے۔اس کے ساتھ اگر آؤٹ ڈور یونٹ کی صفائی نہ کی جائے تو گرد و غبار کی تہہ جم جاتی ہے، جس سے کمپریسر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور وہ گرم ہو کر ناکام ہو سکتا ہے۔

اس خطرے سے کیسے بچا جائے؟

ماہرین کے مطابق اے سی کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر سیزن سے پہلے صرف مستند ٹیکنیشن سے مکمل سروس کروائی جائے اور گیس پریشر لازمی چیک کیا جائے۔اے سی کو مسلسل کئی گھنٹے بغیر وقفے کے نہ چلایا جائے اور مناسب وقفوں کے بعد اسے آرام دیا جائے تاکہ کمپریسر ٹھنڈا ہو سکے۔ گھر کی وائرنگ میں معیاری MCB اور اسٹیبلائزر کا استعمال بھی ضروری ہے۔آؤٹ ڈور یونٹ کو ہوادار اور سایہ دار جگہ پر لگانا چاہیے تاکہ گرمی بہتر طریقے سے خارج ہو سکے۔ معمولی سی احتیاط نہ صرف آپ کے گھر بلکہ آپ کی جان کو بھی بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read