کابل: افغانستان کے لیے اپنی انسانی امداد جاری رکھتے ہوئے بھارت نے ایک بار پھر کابل کو طبی امداد کی بڑی کھیپ روانہ کی ہے۔ جمعہ کو بھارت نے افغان بچوں کے ٹیکہ کاری پروگرام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے 20 ٹن بی سی جی اور ٹیٹنس و ڈفتھیریا (ٹی ڈی) ویکسین افغانستان بھیجی۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعاون کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس امداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان کے بچوں کے امیونائزیشن پروگرام کو وسعت دینے کے لیے 20 ٹن ضروری سامان فراہم کر رہا ہے، جس میں بی سی جی اور ٹیٹنس و ڈفتھیریا ویکسین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید امدادی کھیپیں بھی افغانستان بھیجی جا رہی ہیں اور بھارت صحت کے شعبے میں افغان عوام کی مدد کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
اس سے قبل اپریل کے آغاز میں بھی بھارت نے افغانستان کے عوامی صحت کے نظام کی مدد کے لیے 13 ٹن بی سی جی ویکسین اور متعلقہ طبی سامان فراہم کیا تھا۔ اس امداد کا مقصد بچوں کو تپِ دق یعنی ٹی بی جیسی خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن پروگرام کو مضبوط بنانا تھا۔ رندھیر جیسوال نے اس وقت بھی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ بھارت افغانستان کی وزارتِ صحت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بچوں کے امیونائزیشن پروگرام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔
India delivers 20 tons of critical dry materials for BCG, and Tetanus & Diphtheria (Td) vaccines to Kabul, to augment Afghanistan’s Child Immunisation Programme. More consignments are underway.
India is committed to support the friendly people of Afghanistan in health sector. pic.twitter.com/2m1qrhygRv
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) May 22, 2026
بھارت نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کو کئی طرح کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔ 5 اپریل کو بھارت نے افغانستان میں آنے والے سیلاب اور زلزلے کے بعد امدادی اور ڈیزاسٹر ریلیف سامان بھیجا تھا۔ اس امداد میں کچن سیٹ، حفظانِ صحت کی کٹس، پلاسٹک شیٹس، ترپال، سلیپنگ بیگز اور دیگر ضروری اشیا شامل تھیں۔ وزارتِ خارجہ نے اس وقت کہا تھا کہ حالیہ قدرتی آفات کے باعث افغان عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے وقت میں بھارت ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس سے پہلے 16 مارچ کو بھی بھارت نے کابل کے ایک اسپتال پر پاکستان کے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج کے لیے 2.5 ٹن ہنگامی طبی سامان افغانستان بھیجا تھا۔ اس امداد میں ادویات، میڈیکل ڈسپوزیبلز، ایمرجنسی کٹس اور دیگر طبی آلات شامل تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں بدلتی صورتحال کے باوجود بھارت مسلسل انسانی امداد کے ذریعے افغان عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ طبی اور انسانی امداد کی یہ مسلسل فراہمی خطے میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

