Bharat Express DD Free Dish

Heat and Your Health: رات کی بڑھتی گرمی سے صحت کے سنگین خطرات، دہلی میں دل کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی شدید گرمی کو دنیا کے بڑے ماحولیاتی صحت کے خطرات میں شامل کیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں شہری صحت کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

نئی دہلی: دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اس سال شدید گرمی نے نہ صرف دن بلکہ رات کے اوقات میں بھی لوگوں کی صحت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے جہاں رات کا وقت جسم کو دن بھر کی تھکن اور گرمی سے آرام دینے کا ذریعہ ہوتا تھا، اب بڑھتا ہوا درجہ حرارت رات کے وقت بھی جسم کو سکون نہیں لینے دے رہا، جس کے نتیجے میں مختلف بیماریوں کے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرینِ صحت اور محققین کے مطابق مسلسل گرم راتیں اب دل کی بیماریوں، ڈی ہائیڈریشن، فالج (اسٹروک) اور ہیٹ اسٹروک جیسے سنگین مسائل کو بڑھا رہی ہیں۔ دہلی میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ رات کے وقت بھی درجہ حرارت میں واضح کمی نہیں آ رہی۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر رات کے وقت جسم اپنا درجہ حرارت کم کر کے دن بھر کی تھکن سے بحالی کرتا ہے، مگر جب رات بھی گرم رہے تو جسم مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔ اس صورتحال میں دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات، جن میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سے منسلک رپورٹس بھی شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ غیر معمولی گرم راتیں دل کی بیماریوں اور فالج سے ہونے والی اموات کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو پہلے سے دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔دہلی جیسے بڑے شہروں میں “اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ کنکریٹ کی بلند عمارتیں، کم سبزہ اور ناقص ہوا کا گزر رات بھر گرمی کو فضا میں قید رکھتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے گھروں یا بغیر ایئر کنڈیشنر والے کمروں میں رہنے والے افراد پر پڑ رہا ہے، جہاں رات کے وقت بھی درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔

اسپتالوں میں بھی گرمی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ڈی ہائیڈریشن، ہیٹ ایگزاسشن اور ہیٹ اسٹروک کے ابتدائی علامات والے مریض بڑی تعداد میں ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد پر اس گرمی کا سب سے زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ صرف دن میں ہی نہیں بلکہ رات کے وقت بھی جسم کو ٹھنڈا اور ہائیڈریٹ رکھنا ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی شدید گرمی کو دنیا کے بڑے ماحولیاتی صحت کے خطرات میں شامل کیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں شہری صحت کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read