نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جمعرات کے روز ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع نظرثانی پروگرام یعنی ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے تیسرے مرحلے کا اعلان کر دیا۔ اس مرحلے کے تحت ملک کی 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ، تصدیق اور اپڈیٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مزید شفاف، درست اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر شامل ہو سکے۔ کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جاری مردم شماری کے ہاؤس لسٹنگ مرحلے اور زمینی سطح کی انتظامی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیسرے مرحلے کے شیڈول کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں نظرثانی کے عمل کی تکمیل کے بعد سات اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں ووٹر فہرستوں کی جامع نظرثانی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ تاہم ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کو فی الحال اس مرحلے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں مردم شماری کے دوسرے مرحلے اور برف باری سے متاثرہ بالائی علاقوں کی موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہاں کے لیے الگ شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اس مرحلے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً چار لاکھ کے قریب بوتھ لیول افسران یعنی بی ایل اوز براہ راست گھر گھر جا کر ووٹروں سے رابطہ کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ چورانوے ہزار سے زیادہ بی ایل او ملک بھر میں تقریباً 36.73 کروڑ ووٹروں سے رابطہ قائم کریں گے اور ان کی معلومات کی تصدیق کریں گے۔ ان اہلکاروں کا مقصد ووٹروں کی درست تفصیلات جمع کرنا اور فہرست میں موجود کسی بھی غلطی کو دور کرنا ہوگا۔
اس عمل میں سیاسی جماعتوں کی شرکت کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تعینات کیے گئے تین لاکھ بیالیس ہزار سے زائد بوتھ لیول ایجنٹس بھی اس عمل میں شریک ہوں گے۔ یہ نمائندے بی ایل اوز کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ پورا عمل زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر پولنگ بوتھ کے لیے اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ ووٹر فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کے عمل میں وسیع شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابی نظام کے لیے سیاسی جماعتوں اور انتظامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون بے حد ضروری ہے۔ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں دہلی، مہاراشٹر، پنجاب، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، منی پور، ناگالینڈ، میگھالیہ، میزورم، اڈیشہ، سکم، تریپورہ، تلنگانہ، اتراکھنڈ، چندی گڑھ، دمن دیو اور دادر و نگر حویلی شامل کیے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


