نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس بی آر گوئی نے سری لنکا بار ایسوسی ایشن کی 52ویں سالانہ تقریبِ اسناد میں شرکت کے دوران عدلیہ اور وکلا کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ کولمبو میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی آئینی جمہوریت میں “بار” یعنی وکلا اور “بینچ” یعنی جج ایک دوسرے کے مخالف یا الگ ادارے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون اور تکمیل کرنے والے ستون ہیں۔جسٹس گوئی نے بار اور بینچ کو “سنہرے رتھ کے دو پہیے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی جوابدہی اور انصاف کا نظام انہی دونوں کے متوازن کردار پر قائم رہتا ہے۔ ان کے مطابق ایک آزاد عدلیہ تنہا مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی، بلکہ اس کی آزادی اور خودمختاری کو برقرار رکھنے میں آزاد وکلا کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بار ایسوسی ایشن کی اصل طاقت اس کے ارکان کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ آیا وہ مشکل وقت میں سچ بولنے اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہے یا نہیں۔ جسٹس گوئی کے مطابق جب سرکاری ادارے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، تب وکلا ہی عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے بھارت کی آزادی کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے قانون دانوں نے ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کی “مہاڑ ستیہ گرہ” تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد صرف پانی کے حق کے لیے نہیں بلکہ انسانی وقار اور مساوات کے لیے تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وکلا کا کردار صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ وہ سماجی اور سیاسی شعور کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔
جسٹس گوئی نے معروف قانون دان نانی پالکی والا کو بھی یاد کیا، جن کے دلائل کی بنیاد پر “کیشوانند بھارتی” مقدمے میں آئین کے “بنیادی ڈھانچے کے نظریے” کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ایچ آر کھنہ کی جرات مندانہ اختلافی رائے کا ذکر کیا اور کہا کہ جب انہیں ان کے مؤقف کی وجہ سے چیف جسٹس نہیں بنایا گیا تو ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وکلا انصاف کے حقیقی محافظ ہوتے ہیں۔
حال ہی میں بلڈوزر کارروائیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس گوئی نے کہا کہ حکومت ایک ساتھ مدعی، جج اور جلاد کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کی جائیداد کو قانونی عمل مکمل کیے بغیر منہدم کرنا آئین کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ہر سزا یا کارروائی سے پہلے نوٹس، سماعت اور مقررہ قانونی طریقہ کار پرعمل ضروری ہے۔عالمی چیلنجز جیسے سائبر جرائم، ماحولیاتی بحران اور ہجرت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ وہ بدلتی دنیا کے تقاضوں کو سمجھیں۔ جسٹس گوئی نے کہا کہ بھارت اور سری لنکا دونوں کا تجربہ یہی سکھاتا ہے کہ جمہوریت صرف آئینی کتابوں سے نہیں چلتی، بلکہ اس کے لیے ایک بیدار، فعال اور ذمہ دار بار کا ہونا لازمی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
