واشنگٹن/برلن: امریکہ نے جرمنی میں تعینات اپنی فوج واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مختلف امریکی میڈیا اداروں نے ہفتے کے روز اس فیصلے کی وجوہات کے ساتھ اس کی اطلاع دی۔ ایران کے حوالے سے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی کے بعد ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی اور فوجی انخلا کا اعلان کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر جرمنی کو امریکی فوج کی ضرورت کیوں ہے اور اس کی تاریخ کیا ہے؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد آغاز
جرمنی میں امریکی فوج کی موجودگی کا آغاز ورلڈ وار II کے اختتام پر 1945 میں ہوا۔ نازی حکومت کے ہتھیار ڈالنے کے وقت ملک میں تقریباً 16 لاکھ امریکی فوجی موجود تھے، جو ایک سال کے اندر گھٹ کر تین لاکھ سے بھی کم رہ گئے۔ یہ فوجی بنیادی طور پر امریکی زیر قبضہ علاقوں کے انتظام کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔
سرد جنگ اور اسٹریٹجک تبدیلی
سرد جنگ (Cold War) کے آغاز تک جرمنی میں امریکی موجودگی کم ہوتی رہی، مگر اس دوران فوج کا مقصد نازی ازم کے خاتمے سے بدل کر جرمنی کی بحالی اور اسے سوویت یونین کے خلاف مضبوط دیوار بنانا ہو گیا۔ 1949 میں نیٹو (NATO) اور مغربی جرمنی کے قیام کے ساتھ ہی یہ فوجی اڈے مستقل حیثیت اختیار کر گئے۔
عروج کے دور میں فوجی طاقت
سرد جنگ کے عروج پر امریکہ جرمنی میں تقریباً 50 بڑے فوجی اڈوں اور 800 سے زائد مقامات سے سرگرم تھا۔ ان میں ہوائی اڈے، بیرکیں اور خفیہ نگرانی کے مراکز شامل تھے۔ 1989 میں برلن کی دیوار گرنے اور اس کے دو سال بعد سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ان میں سے کئی اڈے بند کر دیے گئے۔
فوجی اڈوں میں امریکی طرز زندگی
1960، 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد اکثر 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ رہتی تھی۔ ان کے ساتھ لاکھوں اہل خانہ بھی ان اڈوں کے اندر یا آس پاس رہتے تھے۔ یہ اڈے مکمل امریکی شہروں کی شکل اختیار کر چکے تھے، جہاں اسکول، دکانیں اور سینما گھر بھی موجود تھے۔
موجودہ تعیناتی اور اہم اڈے
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق یورپ میں تقریباً 68 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے لگ بھگ 36,400 صرف جرمنی میں ہیں۔ یہ فوجی 20 سے 40 فوجی اڈوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جرمنی میں واقع اسٹٹ گارٹ ہیڈکوارٹر یونائیٹڈ سٹیٹس یورپی کمانڈ اور یونائیٹڈ سٹیٹس افریقہ کمانڈ کا مرکز ہے۔ اسی طرح رامسٹین ایئر بیس یورپ میں امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں تقریباً 8,500 اہلکار تعینات ہیں۔
تربیتی مراکز اور طبی سہولیات
بویریا کے علاقے میں گرافینوہر، ولزیک اور ہوہن فیلس جیسے اڈے یورپ کے بڑے تربیتی مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ جبکہ ویزباڈن میں یو ایس فورسز یورپ اور افریقہ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ لینڈسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر امریکہ کے باہر سب سے بڑا فوجی اسپتال مانا جاتا ہے۔
سرد جنگ کے بعد بدلتا کردار
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ان اڈوں کا کردار بدل گیا۔ اب یہ صرف دفاعی مراکز نہیں بلکہ امریکہ کے لیے ’فارورڈ اسٹیجنگ‘ اور لاجسٹک حب بن چکے ہیں۔ یہی اڈے عراق جنگ، افغانستان میں جنگ، اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ کارروائیوں کے لیے اہم معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت موقف اور پرانا تنازع
ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی جرمنی میں فوجی تعیناتی پر سخت موقف اختیار کر چکے ہیں۔ 2020 میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے جرمنی کو ’قصوروار‘ قرار دیتے ہوئے فوجیوں کی تعداد ایک تہائی کم کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کی وجہ جرمنی کا کم دفاعی بجٹ اور نورڈ اسٹریم 2 کی حمایت تھی۔
بائیڈن دور میں فیصلہ واپس
حالانکہ، اس اعلان پر امریکی کانگریس، پینٹاگون اور نیٹو حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ لاجسٹک مسائل کے باعث اس منصوبے پر عملدرآمد مشکل ہو گیا۔ بعد میں جو بائیڈن نے 2021 میں اس منصوبے کو روک دیا اور بالآخر اسے منسوخ کر دیا۔
موجودہ صورتحال اور عالمی اثرات
فی الحال جرمنی میں امریکی فوج کی موجودگی نہ صرف یورپ کی سلامتی بلکہ امریکہ کی عالمی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ایسے میں ٹرمپ اور مرز کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے اثرات مستقبل میں امریکہ-یورپ تعلقات اور عالمی سکیورٹی توازن پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
