نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیجریوال کو نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اکثر خود کو “خود ساختہ جج” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اپنے بیان میں ادت راج نے کہا کہ ماضی میں اروند کیجریوال نے سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت اور کانگریس کی سابق صدرسونیا گاندھی پر کامن ویلتھ گیمز، 2G اسپیکٹرم اور کوئلہ گھوٹالہ جیسے معاملات میں سنگین بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے۔ اس وقت کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان رہنماؤں کو جیل بھیجیں گے۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اب جب خود کیجریوال پر مختلف الزامات لگ رہے ہیں تو وہ اسی طرز پر خود ہی فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدالتی نظام پر مکمل بھروسہ ظاہر نہیں کر رہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیجریوال ہر معاملے میں خود ہی جج بننا چاہتے ہیں۔
अरविंद केजरीवाल स्वयंभू न्यायाधीश बनकर कॉमनवेल्थ गेम्स, 2G स्पेक्ट्रम और कोयला घोटाले में तत्कालीन सीएम शीला दीक्षित जी और सोनिया गांधी जी के खिलाफ भ्रष्टाचार के गंभीर आरोप लगाये और उन्हें जेल भेजने का वादा करते थे। अब जब खुद पर आरोप लगे हैं, तो उसमें भी न्यायाधीश बनना चाहते हैं…
— Dr. Udit Raj (@Dr_Uditraj) April 27, 2026
ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت میں اداروں کا احترام اور قانونی عمل کی پاسداری ضروری ہے۔اس بیان کے بعد سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہو گیا ہے۔ اگرچہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے اس پر ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس معاملے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس پر ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
