نئی دہلی: آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (اے آئی ای ایم) نے لیگل کنیکٹ دہلی کے تعاون سے آج اوکھلا میں واقع ‘دی اسکالراسکول’ میں “انتخابی اصلاحات اورشہری کوبااختیاربنانا” (الیکٹورل ریفارمس اینڈ ایمپاورنگ دی سٹیزن) کے موضوع پرایک قانونی آگاہی پروگرام کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ پروگرام کی صدارت اے آئی ای ایم کے سرپرست اورتسمیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈاکٹرایس فاروق نے کی، جبکہ مہمان خصوصی کے طورپرسابق مرکزی وزیراورانڈین اسلامک کلچرل سینٹرکے صدرسلمان خورشید نے شرکت کی۔
پروگرام کے افتتاحی خطاب میں اے آئی ای ایم کے صدرڈاکٹرخواجہ ایم شاہد نے انتخابات میں دولت اورعوامی طاقت کے اثرورسوخ پرزوردیا اوراے آئی ای ایم کے بانی سید حامد کوخراج عقیدت پیش کیا۔ بطورکلیدی مقرر، بھارت کے سابق ڈپٹی چیف الیکشن کمشنرڈاکٹرنورمحمد نے شہریوں کے حقوق اورانتخابی اصلاحات کی ضرورت پراظہارخیال کیا۔ انہوں نے’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ’ نظام کے مقابلے میں ‘متناسب نمائندگی’ (Proportional Representation) کے نظام اوردیگراصلاحاتی نکات پرخصوصی گفتگوکی۔ وہیں پروفیسروی کے ترپاٹھی نے بطورخاص مہمان شرکت کی اورکارپوریٹ سیکٹرکوجمہوری نظام پراثراندازہونے کا ذمہ دارٹھہرایا۔
الیکٹورل بانڈز موجودہ نظام کے لئے خطرناک: قاسم رسول الیاس
سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اسلم احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے دنیا کے دیگرممالک میں ہونے والی انتخابی اصلاحات پراپنے خیالات کا اظہارکیا۔ اے آئی ای ایم کے جنرل سکریٹری عبد الرشید نے مہمانوں کا استقبال کیا، جس کے بعد ایڈوکیٹ زاہد اخترفلاحی نے ‘لیگل کنیکٹ دہلی’ کا تعارف پیش کیا۔ دیگرمقررین میں ڈاکٹرخان یاسرنے”بادشاہت پرجمہوریت” کے موضوع پربات کرتے ہوئے خبردارکیا کہ جمہوریت کو اکثریت پسندی میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سید قاسم رسول الیاس نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پربحث کی اورخاص طورپراس بات کا ذکرکیا کہ ‘الیکٹورل بانڈز’ موجودہ نظام کوکس طرح متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے جدید انتخابات کی زمینی حقیقتوں اورچیلنجزپربھی روشنی ڈالی۔
سلمان خورشید نے جرمنی کے متناسب نمائندگی والے ماڈل پربحث کی تجویزدی
پروگرام کا اختتام مہمان خصوصی سلمان خورشید کے خطاب پرہوا۔ جنہوں نے حکومتی تاثیربڑھانے کے لیے طویل قانون سازسیشن کی وکالت کی اورجرمنی کے متناسب نمائندگی والے ماڈل پربحث کی تجویزدی۔ پروگرام کا آغازمنصورغازی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ دہلی ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ رئیس احمد نے ملک بھرسے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں ملک بھرکے قانونی ماہرین، سابق منتظمین اورسماجی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت دہلی کے صدرڈاکٹرادریس قریشی، محمد الیاس سیفی، سینئرصحافی سید منصورآغا، ایڈوکیٹ شمس خواجہ، این آئی اوایس کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹرعبد الصمد، سابق ڈی ایس پی اخترسیفی، قاضی محمد میاں، سابق وقف کمشنروایڈوکیٹ شہزاد، ایڈوکیٹ سلیم، شاہین کوثر، میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسرخالد، ایڈوکیٹ فرح ناز، جماعت اسلامی کے سکریٹری انعام الرحمن، اعجازگوری اورسینکڑوں دیگرافراد نے بھارتی جمہوریت کے بدلتے ہوئے منظرنامے پرتبادلہ خیال کے لئے شرکت کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
