امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر لکھا کہ ہفتے کی رات جو کچھ ہوا، وہی وجہ ہے کہ ہماری بڑی فوج، سیکریٹ سروس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مختلف وجوہات کی بنا پر پچھلے 150 سالوں سے ہر صدر یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی زمین پر ایک بڑا، محفوظ اور سکیورٹی سے بھرپور بال روم بنایا جائے۔
کیسا بال روم چاہتے ہیں ٹرمپ؟
ٹرمپ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر (فی الحال معطل) ملٹری ٹاپ سیکریٹ بال روم کے ساتھ یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ ان کے بقول اسے جلد از جلد بنایا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف خوبصورت ہوگا بلکہ اس میں اعلیٰ درجے کی سیکیورٹی خصوصیات بھی ہوں گی، اور اس کے اوپر کوئی ایسا کمرہ نہیں ہوگا جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل ہو سکے۔ یہ دنیا کی سب سے محفوظ عمارت وائٹ ہاؤس کے اندر ہوگا۔
ٹرمپ کا خاتون پر طنز
اپنی ٹروتھ پوسٹ میں ٹرمپ نے ایک خاتون کا بھی ذکر کیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک خاتون جو کتا گھما رہی تھیں، انہوں نے بلاوجہ بال روم کیس دائر کیا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں فوراً اپنی شکایت واپس لے لینی چاہیے اور اس منصوبے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔یہ خاتون کیرول کوئلن ہیں، جو نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کی صدر اور سی ای او ہیں۔ اسی ادارے نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ (جو 1902 میں بنایا گیا تھا) کو گرا کر بنائے جانے والے بال روم کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ اپریل 2026 میں عدالت نے اس شکایت پر تعمیراتی کام روکنے کی اپیل منظور کی تھی۔
بال روم اور زیرِ زمین بنکر کی تعمیر پر قانونی تنازع
ٹرمپ کی جانب سے ایسٹ ونگ کو گرا کر 90,000 مربع فٹ کے ایک نئے بڑے بال روم اور زیرِ زمین بنکر کی تعمیر پر قانونی تنازع جاری ہے۔ عدالت نے تاریخی عمارت کو بغیر کانگریس کی منظوری کے گرانے اور تعمیر شروع کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ مارچ 2026 میں ایک وفاقی جج نے اس تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روک دیا تھا، جس کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ نے اپیل دائر کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



