Urdu Conclave 2026

Nepal Home Minister Resignation: بالین حکومت کو بڑا جھٹکا، نیپال کے وزیرداخلہ سودان گرونگ نے دیا استعفیٰ، جانئے کیا ہے عہدہ چھوڑنے کی وجہ؟

وزیراعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں قائم حکومت کے لیے یہ دوسرا بڑا استعفیٰ ہے۔ اس سے قبل محنت و روزگار کے وزیر کمار شاہ کو بدعنوانی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

 

نیپال کے وزیر داخلہ سودان گرونگ نے بدھ کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ایک کاروباری شخصیت دیپک بھٹّا سے مبینہ تعلقات اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس پر اس وقت تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں قائم حکومت کے لیے یہ دوسرا بڑا استعفیٰ ہے۔ اس سے قبل محنت و روزگار کے وزیر کمار شاہ کو بدعنوانی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ مارچ میں انتخابات کے بعد نئی حکومت تشکیل پائی تھی، جس کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سودان گرونگ اپنے بیانات اور تیزتر کارروائی کے لیے مشہور ہیں۔ وزارت داخلہ کا اہم عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ نیپال میں پوری طرح سے حرکت میں نظر آئے اور شوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوئے۔ ان کا ایک بیان جس میں انہوں نے نیپال ٹریفک کنٹرول کے اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو میری بھی گاڑی چیک کرنے کا پورا اختیار ہے، کافی سرخیوں میں رہا تھا۔

غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے استعفیٰ—گرونگ

سودان گرونگ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے عہدے کی وجہ سے کسی قسم کے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہو یا تحقیقات متاثر ہوں۔ اپنے بیان میں انہوں نے اخلاقیات اور عوامی اعتماد کو عہدے سے زیادہ اہم قرار دیا۔

سرمایہ کاری اور اثاثوں پر سوالات

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرونگ ایک مائیکرو انشورنس کمپنی میں شیئر ہولڈر ہیں، جس میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ملزم دیپک بھٹّا اور دیگر کاروباری افراد بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات میں اس سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا، تاہم گرونگ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام سرمایہ کاریاں سرکاری ویب سائٹ پر درج ہیں۔ سودان گرونگ کے استعفے کے بعد نیپال کی سیاست میں ہلچل مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق اب اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ الزامات کی حقیقت سامنے آسکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read