بہار شریف: ریاست بہار کے ضلع نالندہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں خدا گنج تھانہ علاقہ کے ایک گھر کے کمرے سے ماں اور بیٹی کی لاشیں مشتبہ حالت میں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں خاتون کے شوہر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
واقعہ کی تفصیل
یہ افسوسناک واقعہ خداگنج تھانہ علاقہ کے جیٹھؤنا گاؤں میں پیش آیا، جہاں منگل کی دیر رات ایک گھر کے کمرے سے خاتون اور اس کی بیٹی کی لاشیں ملی ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دیا۔
معاملے میں اہل خانہ کا الزام
مہلوکین کی شناخت سنجے کمار کی بیوی سنیسا دیوی (28) اور ان کی 14 سالہ بیٹی اسنیہا کماری کے طور پر ہوئی ہے۔ اسنیہا نے اسی سال میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا اور مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ مہلوکہ خاتون کی بہن، جو گیا ضلع کے بلاگنج کی رہائشی ہیں، کو گاؤں کے لوگوں نے فون پر اس واقعہ کی اطلاع دی۔ جب اہلِ خانہ موقع پر پہنچے تو کمرے کے اندر ماں بیٹی کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ دونوں کو گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔
قتل کی وجوہات سے متعلق شبہات
اہلِ خانہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ جائیداد کے لالچ میں کسی نامعلوم شخص نے اس واردات کو انجام دیا ہو سکتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق خاتون کا شوہر ذہنی طور پر غیر مستحکم بتایا جاتا ہے، حالانکہ پولیس تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے۔
پولیس کا موقف اور تفتیش
ہلسہ کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کمار رشی راج نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ گلا دباکر قتل کا لگتا ہے۔ شوہر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ جاری ہے۔ دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرا کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ہی معاملے کا انکشاف کر دیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



