اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان کردہ 10 دن کی جنگ بندی 10 گھنٹے بھی برقرار نہ رہ سکی۔ لبنانی فوج نے جمعہ کی صبح دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے آدھی رات سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ فوج کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے کئی دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی۔
شہریوں کو وارننگ
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق لبنانی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ابھی جنوبی علاقوں اور قصبوں میں واپس نہ جائیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس الزام پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے کیا تھا اعلان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ معاہدہ شروع ہوتے ہی ٹوٹ گیا۔
اسرائیلی فوج پر الزامات
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے خیام اور دببین شہروں کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران مغربی بقاع وادی اور جبل الشیخ کے علاقوں میں اسرائیلی جاسوس طیارے مسلسل پرواز کرتے رہے۔ سی این این کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوبی حصے کی طرف نہ جائیں کیونکہ وہاں فوج تعینات رہے گی۔
اسرائیلی ترجمان کا بیان
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا کہ فوجی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں اور پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے تعیناتی برقرار رکھی جائے گی۔
ٹرمپ کی امیدیں
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ حزب اللہ جنگ بندی کے دوران پرامن رویہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر حزب اللہ ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بڑا موقع ہوگا۔
معاہدے کا پس منظر
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ جنگ بندی واشنگٹن میں دونوں ممالک کے سفیروں کی ملاقات اور ٹرمپ و امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے فون کالز کے بعد طے ہوئی تھی۔ یہ تین دہائیوں میں پہلی براہ راست سفارتی بات چیت تھی۔ تاہم حزب اللہ نے لبنان کو مذاکرات سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسرائیل-لبنان جنگ بندی کا ٹوٹنا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ ٹرمپ کی کوششوں کے باوجود حالات مستحکم نہیں ہو سکے اور شہریوں کے لیے صورتحال بدستور غیر محفوظ بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


