Bharat Express DD Free Dish

تبدیلی مذہب مخالف قانون کے تحت کرائی جا رہی ہیں جھوٹی ایف آئی آر… الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ رجحان تشویشناک، پورا معاملہ جان کر رہ جائیں گے حیران

درخواست گزاروں نے بہرائچ کے ایک پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آرکومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ایف آئی آرکے تحت یہ الزام لگایا گیا تھا کہ درخواست گزار اور دیگر لوگوں نے شکایت کنندہ کی 18 سالہ بیٹی کو لالچ دے کر اغوا کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ درخواست گزار اسے مذہب تبدیل کرنے اور شادی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک سماعت کے دوران ریاست میں ’اترپردیش کا غیرقانونی مذہب تبدیلی مخلف ایکٹ 2021‘ کے تحت درج ہونے والی جھوٹی ایف آئی آرکی بڑھتی ہوئی تعداد پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس رجحان کو تشویشناک قراردیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 2021 کے اس قانون کے تحت “دھڑا دھڑ” ایف آئی آردرج کرائی جا رہی ہے، جوبعد میں غلط ثابت ہوتی ہے۔ عدالت نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) کوبھی ہدایت دی کہ وہ ذاتی حلف نامہ داخل کریں، جس میں اس طرح کے معاملات میں کی جانے والی کارروائی کی تفصیل دی جائے۔ جسٹس عبدالمعین اورجسٹس پرمود کمار شریواستو کی بینچ نے پیرکے روزیہ حکم سنایا۔ عدالت محمد فیضان اوردیگرکی جانب سے دائر فوجداری رٹ پٹیشن کی سماعت کررہی تھی۔

18 سال کی بیٹی پرمذہب تبدیل کرنے کے دباو کا الزام

درخواست گزاروں نے بہرائچ ضلع کے ایک پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آرکومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایف آئی آرمیں الزام لگایا گیا ہے کہ درخواست گزاراوردیگرافراد نے شکایت کنندہ کی 18 سالہ بیٹی کا اغوا کیا تھا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ درخواست گزاراسے مذہب تبدیل کرنے اورشادی کرنے پرمجبورکرنے کی کوشش کریں گے۔ وہیں درخواست گزاروں نے ان تمام الزامات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ نے مذہب تبدیلی کے الزام کو کردیا تھا مسترد

تاہم، بینچ کومتاثرہ کے بیان سے بھی آگاہ کیا گیا، جوبی این ایس ایس کی دفعہ 183 کے تحت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس میں متاثرہ نے کہا کہ وہ درخواست گزارکے ساتھ گزشتہ تین سالوں سے رضامندی سے تعلقات میں ہے۔ اس نے مذہب کی تبدیلی، جبری شادی، یا جسمانی تعلقات کے الزامات کی بھی تردید کی۔ درحقیقت، مبینہ متاثرہ نے یہ بھی کہا کہ وہ درخواست گزارکے ساتھ رہنا چاہتی ہے اوراس نے درخواست دی کہ ہندوتنظیموں کے اراکین اسے یا اس کے رشتہ داروں کوہراساں نہ کریں۔ بینچ نے مزید مشاہدہ کیا کہ متاثرہ کے بیان سے صورتحال کوواضح کرنے کے باوجود، تفتیشی افسرنے صرف عصمت دری کا الزام (بی این ایس کی دفعہ 69) کوہٹایا۔ جسے ہائی کورٹ نے ایک “عجیب موڑ” قراردیا، اس میں تفتیشی افسرنے بی این ایس کے تحت اغوا اورحملہ کے الزامات کے ساتھ ساتھ تبدیلی مذہب مخالف قانون کی کئی دفعات کے تحت تحقیقات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

متاثرہ کے بیان کے بعد تفتیش کا کوئی فائدہ نہیں
سماعت کے دوران عدالت نے یہ ریمارکس دیا کہ جب متاثرہ کے بیان نے ایف آئی آرکے الزامات کوواضح طورپرغلط ثابت کردیا تھا تواس معاملے میں آگے کی جانچ کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ اس طرح کے جھوٹے معاملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق عدالت نے پریشان کرنے والی روایت یعنی  کیس کی مزید تفتیش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح کے جھوٹے مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں، عدالت نے ایک “تشویشناک رجحان” کوبھی نوٹ کیا، جس میں 2021 کے قانون کے تحت تیسرے فریق کی طرف سے ایف آئی آردرج کی جا رہی ہیں۔ بینچ نے نوٹ کیا کہ اسی طرح کا رجحان سپریم کورٹ نے حالیہ 2025 کیس، راجیندربہاری لال بنام ریاست اترپردیش اوردیگرمیں بھی اسی طرح کا ٹرینڈ دیکھا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو- 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read