مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور تمام بڑی جماعتیں عوام کو لبھانے کے لیے مختلف وعدے کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرقی میدنی پور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مچھلی کی پیداوار کے مسئلے کو اہم موضوع بنایا اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بنگال کے عوام، جو مچھلی اور چاول (ماچ-بھات) کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کی 15 سالہ حکمرانی کے باوجود ریاست کے لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر مچھلی تک دستیاب نہیں ہو پا رہی، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں کے دوران ملک میں مجموعی طور پر مچھلی کی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، لیکن مغربی بنگال میں اس کے برعکس کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی ناکامیاں ہیں، جنہوں نے اس اہم شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔
Haldia’s energy reflects a strong wave for change across West Bengal. People are placing their trust in the BJP. @BJP4Bengal https://t.co/uNp6tEPlf3
— Narendra Modi (@narendramodi) April 9, 2026
وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو نہ صرف مچھلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا بلکہ مچھیروں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت اس شعبے کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سہولیات کے ذریعے مضبوط کرے گی تاکہ بنگال اس میدان میں خود کفیل بن سکے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ٹی ایم سی اور اس کی سربراہ ممتا بنرجی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو بنگالی عوام کو مچھلی اور گوشت جیسی غذاؤں سے محروم کر دیا جائے گا، جو سراسر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور موجودہ حکومت ہی عوام کو ان کی بنیادی غذائی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وزیر اعظم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں پہلے مچھلی کے لیے دیگر ریاستوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن بی جے پی حکومت کے اقدامات کے بعد وہاں مچھلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب بہار دیگر ریاستوں کو بھی مچھلی برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر مغربی بنگال میں بھی اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگال میں مچھلی کی مانگ بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود ریاست اس شعبے میں خود کفیل نہیں ہو سکی ہے اور اسے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے پیچھے بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کا ہاتھ ہے۔
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ بی جے پی حکومت بننے کی صورت میں ’پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا‘ کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا، جس کے ذریعے مچھلی کی پیداوار میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مچھیروں کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے نہ صرف پیداوار بڑھے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت نے پہلی بار ایک علیحدہ وزارت برائے ماہی پروری قائم کی ہے، جو مچھیروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کے تحت خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے اور مچھیروں کو 5 لاکھ روپے تک کا بیمہ تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ترقی اور خود کفالت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں یا موجودہ حالات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




