نئی دہلی :سپریم کورٹ نے میرٹھ کے سینٹرل مارکیٹ میں 44 عمارتوں کو سیل کرنے کے بعد سرکاری اداروں کی غفلت پر سخت اعتراض کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر وقت پر کارروائی کی گئی ہوتی تو آج پورا بازار بند ہونے کی صورت حال پیدا نہ ہوتی۔سپریم کورٹ کی بینچ، جس میں جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن شامل ہیں، انہوں نے 7 اپریل کو رہائشی زمین پر جاری تجارتی سرگرمیوں کے دوران متعلقہ حکام کی غیر فعال رویے پر سخت تنقید کی تھی۔
یوپی ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کی رپورٹ
یوپی ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل نے جمعرات، 9 اپریل 2026 کو عدالت میں رپورٹ پیش کی۔ کونسل نے بتایا کہ بازار کی 44 عمارتوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ان 44 عمارتوں میں صرف شوروم اور تجارتی کمپلیکس ہی نہیں بلکہ 6 اسکول، 6 اسپتال اور 3 بینک بھی چل رہے تھے۔ تمام عمارتیں انتظامی کنٹرول میں لے لی گئی ہیں۔ میرٹھ انتظامیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسکول کے طلبہ اور اسپتال میں داخل مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
اسیٹ بیک پر موجود دکانوں پر سختی
سماعت کے دوران عدالت نے اسیٹ بیک علاقے میں چل رہی دکانوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اسیٹ بیک کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کو قانونی نہ کیا جائے۔ انتظامیہ کو ایسے تمام غیر قانونی تعمیرات کو دو ماہ کے اندر مسمار کرنے کا حکم دیا گیا۔عدالت نے ہدایت دی کہ عمارت مالکان کو نوٹس جاری کر کے خود غیر قانونی حصے ہٹانے کا موقع دیا جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کونسل قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے توڑے اور خرچ دکان مالکان سے وصول کیا جائے۔
غیر قانونی تعمیرات کی قانونی حیثیت پر رپورٹ
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کیا کہ کسی تعمیر کو قانونی طور پر درست کیا جا سکتا ہے؟ اگر کارپوریشن کے قوانین کے تحت کچھ تعمیرات کو جرمانے کے ساتھ قانونی بنایا جا سکتا ہے تو اس پر مفصل اسٹیس رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ جب تک یہ واضح نہ ہو کہ کون سی تعمیر قوانین کے دائرے میں آتی ہے، کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔
سپریم کورٹ کا پیغام
عدالت نے واضح کیا کہ وقت پر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے بازار پر خراب اثر پڑا۔ اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات پر نظر رکھنا اور فوری کارروائی کرنا سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ مستقبل میں ایسی غفلت نہ ہو اور قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


