گریٹر نوئیڈا کے IIMT کالج آف مینجمنٹ میں جاری “بھارت فلم فیسٹیول” کے دوران اُپیندر رائے نے تاریخ، تہذیب اور روحانیت پر گہری بات کرتے ہوئے بھارت کی غلامی کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ “بھارت کی بات سناتا ہوں” موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال پرانی تہذیب رکھنے والا بھارت اپنی کچھ تاریخی غلطیوں کی وجہ سے تقریباً 1000 سال تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا رہا۔
ہم غیر ملکی مسافروں کا انتظار کرتے رہے
اپنے خطاب میں اُپیندر رائے نے کہا کہ بھارت نے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کم کی جبکہ دنیا بھارت کو جاننے کے لیے آتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے ہوئن سانگ اور فاہیان، مراکش سے ابن بطوطہ، اٹلی سے مارکو پولو، فارس سے البیرونی اور عبدالرزاق، پرتگال سے ڈومنگو پیس اور یورپ سے واسکو ڈی گاما بھارت آئے، لیکن بھارت کے مسافروں کا ذکر کم ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سفر کرنا چھوڑ دیا اور اپنی سوچ کو محدود کر لیا، جس کے باعث ہم دنیا کی ترقی سے کٹ گئے۔
آپسی اختلاف نے ہمیں کمزور کیا

بھارت کی غلامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا کہ جب سکندر اعظم مقدونیہ سے بھارت کی طرف بڑھ رہا تھا، تو چانکیہ نے تمام راجاؤں سے متحد ہونے کی اپیل کی تھی، مگر آپسی اختلافات نے بھارت کو کمزور کر دیا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی یہاں تجارت کے لیے آئے تھے، مگر انہوں نے آپسی تقسیم کا فائدہ اٹھایا اور تقریباً 200 سال تک حکومت کی۔
سومنات مندر کی مثال

اپنے خطاب میں اُپیندر رائے نے سومنات مندر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب حملہ آور محمد بن قاسم آیا تو مندر کے پجاریوں نے راجاؤں کی مدد لینے سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں مندر کو لوٹ لیا گیا۔
اشتاوکر گیتا اور بھگوت گیتا کا فرق

روحانیت پر بات کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے اشتاوکر گیتا اور بھگوت گیتا کے درمیان فرق کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اشتاوکر گیتا صرف موکش کی بات کرتی ہے، جبکہ بھگوت گیتا میں بھگوان شری کرشن کے 700 شلوک زندگی کے ہر طبقے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
سناتن ثقافت کی عالمی اہمیت
اپنے خطاب کے اختتام پر اُپیندر رائے نے کہا کہ سناتن ثقافت کی سب سے بڑی دین “موکش” کا تصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرو نانک دیو، مہاویر اور بدھ نے بھی موکش کی بات کی، جو انسان کو جنت اور جہنم کے تصور سے آگے لے جاتی ہے۔اس طرح اُپیندر رائے نے اپنے خطاب میں نہ صرف بھارت کی تاریخی کمزوریوں کو اجاگر کیا بلکہ نوجوانوں کو سناتن ثقافت کی گہرائیوں سے بھی روشناس کرایا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

