ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی۔
تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری علاقائی کشیدگی کے حوالے سے روس اور بھارت کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیانات کے مطابق، اتوار کو ہونے والی دو علیحدہ ٹیلیفونک بات چیت میں عراقچی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے سکیورٹی اور معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران کا مؤقف اور الزامات
عراقچی نے کہا کہ گزشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عوام کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جن میں صنعتی ڈھانچے، فیکٹریاں، اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے وابستہ بااثر ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔
ایران کا دفاعی عزم
عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کے عوام اور اس کی افواج اپنے ملک کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے اثرات پورے خطے اور دنیا کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
روس کا ردعمل
دوسری جانب، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شہری علاقوں پر ہونے والے ’غیر قانونی‘ حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر جنوبی ایران میں بوشہر کے جوہری پلانٹ پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
بھارت کا مؤقف
بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جنگ کو روکنے کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


