امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائیاں ابھی مزید چند ہفتوں تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر انتہائی شدید حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے ان کارروائیوں کو ’بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری‘ قرار دیا۔
خطرہ ختم کرنے کا دعویٰ
ملک سے اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کو ایک ماہ سے کچھ زیادہ وقت ہوا ہے، لیکن امریکہ نے پہلے ہی اس بڑے خطرے کو ختم کر دیا ہے جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس فوجی آپریشن میں 32 دن سے ہیں اور دشمن کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اب حقیقی خطرہ باقی نہیں رہا۔‘‘
سابق جنگوں سے موازنہ
ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی رفتار کو واضح کرنے کے لیے ماضی کی جنگوں سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’پہلی جنگ عظیم میں امریکہ کی شمولیت ایک سال، سات ماہ اور پانچ دن جاری رہی۔ دوسری جنگ عظیم تین سال، آٹھ مہینے اور 25 دن تک جاری رہی۔ کوریا کی جنگ تین سال، ایک ماہ اور دو دن تک جاری رہی۔ ویتنام کی جنگ 19 سال، پانچ مہینے اور 29 دن تک جاری رہی، اور عراق کی جنگ آٹھ سال، آٹھ مہینے اور 228 دن جاری چلی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف موجودہ کارروائی انتہائی تیز ہے اور جدید جنگوں میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
امریکی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے تمام بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر سمجھوتہ نہیں ہوا تو ہم ان کے ہر پاور پلانٹ پر شدید حملہ کریں گے، ممکن ہے ایک ساتھ۔‘‘
بچوں کے مستقبل کی بات
ٹرمپ نے اس جنگ کو امریکہ کے محفوظ مستقبل سے جوڑتے ہوئے کہا، ’’یہ آپ کے بچوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری ہے۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ جنگ ضروری ہے، حالانکہ امریکی انٹیلی جنس حکام پہلے یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔
’جنگ تقریباً ختم‘ کا دعویٰ
اپنے خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے اور امریکہ دنیا کو ایران کے ’خطرے‘ سے آزاد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے خطرناک خطرے کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
