بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ بی ڈبلیو ٹی وائی آر ممبئی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے 31 مارچ کو پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ بی ڈبلیو ای ایل ایم نیو مینگلور کے راستے میں ہے اور اس کے یکم اپریل کو پہنچنے کا امکان ہے۔
مام بھارتی ملاح محفوظ ہیں
خلیجی خطے میں کام کر رہے بھارتی جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی پرچم والے کسی بھی جہاز سے متعلق کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ مغربی خلیج فارس کے علاقے میں اس وقت مجموعی طور پر 18 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں، جن پر 485 بھارتی ملاح سوار ہیں۔ جہاز مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیوں اور بھارتی مشنز کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی شپنگ) صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ڈی جی شپنگ کا کنٹرول روم ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے فعال رہتا ہے اور آغاز سے اب تک 4523 کالز اور 8,985 ای میلز کو ہینڈل کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران محکمہ کو 92 کالز اور 120 ای میلز موصول ہوئیں۔ ڈی جی شپنگ اب تک 942 سے زائد بھارتی ملاحوں کی محفوظ وطن واپسی میں مدد کر چکا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں واپس آنے والے چار ملاح بھی شامل ہیں۔
بندرگاہوں پر کام معمول کے مطابق جاری
پورے بھارت میں بندرگاہوں پر کام معمول کے مطابق جاری ہے اور کہیں بھی بھیڑ یا رکاوٹ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ گجرات، مہاراشٹر، گوا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے ریاستی میری ٹائم بورڈز نے کام کے معمول کے مطابق جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔ بندرگاہ اور جہاز رانی کی وزارت ملاحوں کی فلاح و بہبود اور سمندری سرگرمیوں میں کسی رکاوٹ سے بچنے کے لیے وزارت خارجہ، بھارتی مشنز اور سمندری شعبے سے وابستہ دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، بھارتی مشنز اور دفاتر خطے میں مقیم بھارتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی ہے اور وقتاً فوقتاً ایڈوائزری بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ وزارت خلیجی اور مغربی ایشیا کے خطے میں بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جس میں بھارتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور فلاح کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ بھارتی شہریوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم مسلسل فعال ہے اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

