نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا سمیت دیگر فریقین کو جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دے دی۔ یہ معاملہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی اس عرضی سے متعلق ہے جس میں ٹرائل کورٹ کے منفی ریمارکس کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جسٹس سورن کانت شرما کی عدالت میں پیش ہوا، جہاں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔ عدالت نے فریقین کو جواب داخل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 2 اپریل کے لیے مقرر کر دی۔ سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے پوچھا کہ دلائل کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ جواب میں وکلاء نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو طویل اور مفصل قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ پہلے تمام تحریری جوابات (pleadings) کا جائزہ لے گی، جس کے بعد حتمی دلائل کے لیے وقت طے کیا جائے گا۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر ای ڈی چاہے تو وہ سب سے پہلے اپنے دلائل پیش کر سکتی ہے، جس کے بعد دیگر فریقین کو سنا جائے گا۔
ای ڈی کی عرضی اور اعتراضات
ای ڈی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے 27 فروری 2026 کے ٹرائل کورٹ کے حکم سے بعض ریمارکس حذف کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس حکم میں دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں کئی ملزمان کو بری (ڈسچارج) کیا گیا تھا۔ ای ڈی کا مؤقف ہے کہ عدالت نے اس کے خلاف سخت اور عمومی نوعیت کے تبصرے کیے، حالانکہ وہ اس کارروائی کا فریق ہی نہیں تھی۔ اس سے قبل نوٹس جاری کرتے وقت ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ای ڈی کے خلاف کیے گئے ریمارکس ’’بنیادی طور پر غلط فہمی‘‘ پر مبنی معلوم ہوتے ہیں، خاص طور پر اس مرحلے پر جب ڈسچارج درخواستوں پر غور کیا جا رہا تھا۔ ای ڈی نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سی بی آئی کے کیس کی حدود سے باہر جا کر اس کی تفتیش پر تبصرے کیے، جو کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ہو رہی تھی۔
فریقین کا موقف: ای ڈی کی عرضی کی مخالفت
دوسری جانب جواب دہندگان کے وکلا نے ای ڈی کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے ریمارکس اس کے فیصلے کا حصہ ہیں اور انہیں الگ سے حذف نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تمام دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ڈسچارج کا فیصلہ دیا۔ ای ڈی نے موقف اختیار کیا کہ بغیر اس کا موقف سنے اس کے خلاف ریمارکس دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے جاری کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایجنسی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ حکم کے مخصوص حصوں کو حذف کرے، خاص طور پر وہ ریمارکس جن میں تفتیشی اداروں کے کردار اور گرفتاریوں پر تنقید کی گئی ہے، حتیٰ کہ انہیں ’’انتخابی میدان‘‘ میں نہ آنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

