Bharat Express DD Free Dish

No Shortage of Gas in the Country: ملک میں گیس کی کوئی کمی نہیں، سی این جی اور پی این جی صارفین کو بلا تعطل سپلائی جاری: مرکزی حکومت

وزارت نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت گھریلو صارفین کے مفادات کو ترجیح دیتی رہے گی اور گھروں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے اہم شعبوں کے لیے ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ ملک میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور صارفین کو سی این جی اور پی این جی کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی مارکیٹنگ اور آئل ریفائنری ڈویژن کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ سی این جی فراہم کرنے والے فیول پمپ اور گھریلو پی این جی کنکشن معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی این جی استعمال کرنے والوں اور پی این جی صارفین دونوں کو مسلسل سپلائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے نفاذی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں اور کئی ریاستوں میں ایندھن کے ذخیرے اور سپلائی کی جانچ کے لیے چھاپے مارے گئے ہیں۔ سینئر سرکاری افسر نے مزید کہا کہ خام تیل بھی مناسب مقدار میں دستیاب ہے۔ ان کے مطابق ملک کی تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور پٹرول پمپ معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ اب تک کہیں بھی ایندھن کی کمی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

نئے پی این جی صارفین کے لیے ترغیبی اسکیم

گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے نئے پی این جی صارفین کے لیے ترغیبی اسکیمیں بھی شروع کی ہیں۔ اس سلسلے میں اندرا پرستھ گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ جو صارفین 31 مارچ سے پہلے پی این جی کنکشن کے لیے رجسٹریشن کرائیں گے، انہیں 500 روپے کی مفت گیس فراہم کی جائے گی۔ ادھر گھریلو گیس کی دستیابی کے حوالے سے صارفین میں پھیلے خدشات کم ہونے کے بعد ایل پی جی کی بکنگ میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں کارروائیاں جاری ہیں۔

22 ریاستوں میں کنٹرول روم قائم

حکام کے مطابق ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی فروخت روکنے کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ وزارت نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت گھریلو صارفین کے مفادات کو ترجیح دیتی رہے گی اور گھروں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے اہم شعبوں کے لیے ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read