نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے جمعرات کو لوک سبھا میں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باوجود بھارت میں پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) یا فیول آئل کی کوئی کمی نہیں ہے اور ملک کے پاس توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے کافی انتظامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی توانائی سپلائی میں پیدا ہونے والی بڑی رکاوٹ کے باوجود صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھال رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر مغربی ایشیا میں جاری تنازع طویل بھی ہو جائے تو بھی بھارت کے پاس گیس کی پیداوار اور سپلائی کے ایسے انتظامات موجود ہیں جو ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے مطابق گھروں اور صنعتوں کے لیے بجلی کی فراہمی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ وزیر کے بیان کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی اور احتجاج بھی کیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر
وزیر نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے مؤثر طور پر بند ہو گئی ہے۔ یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بھارت کے تقریباً 45 فیصد خام تیل کی درآمدات پہلے اسی راستے سے آتی تھیں، لیکن اب متبادل ذرائع کے باعث صورتحال قابو میں ہے۔ ان کے مطابق اب نان ہرمز ذرائع سے خام تیل کی درآمدات 55 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہیں۔
40 ممالک سے تیل کی فراہمی
ہردیپ پوری نے کہا کہ بھارت نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب ملک 40 ممالک سے خام تیل حاصل کر رہا ہے، جبکہ 2006-07 میں یہ تعداد صرف 27 ممالک تھی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول کی فراہمی مکمل طور پر برقرار ہے اور ریفائنریز بہت زیادہ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، بعض اوقات تو 100 فیصد سے بھی زیادہ۔
قدرتی گیس کی سپلائی کا نظام
وزیر کے مطابق 9 مارچ کو جاری کردہ قدرتی گیس کنٹرول آرڈر کے تحت ترجیحی بنیادوں پر گیس کی تقسیم کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اگرچہ قطر کی ایک بڑی گیس تنصیب نے 30 ایم ایم ایس سی ایم ڈی درآمدات پر فورس میجر کا اعلان کیا ہے، لیکن ملک میں گھریلو پیداوار 90 ایم ایم ایس سی ایم ڈی کی سطح پر جاری ہے۔ حکومت کے مطابق: گھروں کو پائپ گیس اور گاڑیوں کے لیے سی این جی کی 100 فیصد سپلائی برقرار ہے۔ صنعتی صارفین کو گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کا 80 فیصد گیس ملے گی۔ کھاد بنانے والے کارخانوں کو 70 فیصد گیس فراہم کی جائے گی تاکہ زرعی شعبہ متاثر نہ ہو۔ ریفائنریز اور پیٹروکیمیکل یونٹس میں محدود کمی کر کے گیس کو ترجیحی شعبوں کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔
ایل پی جی سپلائی کے لیے اقدامات
وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ملک کے 33 کروڑ خاندانوں کے لیے ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے شہری علاقوں میں 25 دن کا کم از کم بکنگ وقفہ متعارف کرایا گیا ہے اور ڈلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ سسٹم کو 90 فیصد صارفین تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ سے ڈلیوری تک کا اوسط وقت اب بھی 2.5 دن ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
متبادل ایندھن کے استعمال کی اجازت
حکومت نے گیس کی طلب کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کو ہدایت دی ہے کہ عارضی طور پر ہوٹل اور ریستوران شعبے میں بایوماس، آر ڈی ایف پیلیٹس اور مٹی کے تیل یا کوئلے کو ایک ماہ تک متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزیر کے مطابق اس اقدام سے ایل پی جی کو ترجیحی صارفین کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




