Strait of Hormuz: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت کا بڑا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے دو چار نہیں، پورے 62 جہاز بحفاظت گزرے
3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔
Petrol & Diesel Prices: ’’تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی کررہی ہیں نقصان کی تلافی، فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں: ہردیپ سنگھ پوری
مرکزی وزیر نے کہا کہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اب بھی تقریباً 2.18 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی خسارے کی تلافی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کے پاس اب بھی ایسا ایندھن موجود ہے جو اس وقت خریدا گیا تھا جب بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، اس لیے موجودہ حالات میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ’’اس وقت ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
Do Not Book LPG in Panic: گھبراہٹ میں بک نہ کریں ایل پی جی، 7 دن میں پی این جی کنکشن فراہم کرانے کی یقین دہانی، ایندھن بحران پر حکومت کا اہم بیان
حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں اور گھبراہٹ میں فیصلے لینے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق اس مشکل وقت میں دانشمندی اور احتیاط ہی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ایندھن کی فراہمی جاری رہے بلکہ عوام سائبر جرائم سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
No shortage of fuel oil: مغربی ایشیا کشیدگی کے باوجود پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں: ہردیپ سنگھ پوری
وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کو ہدایت دی ہے کہ عارضی طور پر ہوٹل اور ریستوران شعبے میں بایوماس، آر ڈی ایف پیلیٹس اور مٹی کے تیل یا کوئلے کو ایک ماہ تک متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
Urea, DAP availability at comfortable levels: یوریا اور ڈی اے پی کی فراہمی خریف سیزن کے لیے اطمینان بخش، عالمی چیلنجز کے باوجود کھادوں کی سپلائی مستحکم: حکومت
مراکش کے ساتھ بھارتی کھاد کمپنیوں کے کنسورشیم نے 25 لاکھ ٹن ڈی اے پی کی سپلائی کا معاہدہ کیا۔ جولائی 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ ہوا، جس کے تحت 2025-26 سے پانچ سال تک ہر سال 31 لاکھ ٹن ڈی اے پی فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی طویل المدتی کھاد ضرورتوں کو پورا کرنے اور بروقت سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔





