ڈاکٹر شکیل احمد خان، جو سابقاً بہار میں کانگریس لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر اور اے آئی سی سی کے سکریٹری رہ چکے ہیں، نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا رویہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے مایوس کن ہے۔
’’کمپرومائزڈ پرائم منسٹر سے آخر کیا توقع کی جا سکتی ہے؟‘‘
ڈاکٹر خان کے مطابق، ’’کمپرومائزڈ پرائم منسٹر سے آخر کیا توقع کی جا سکتی ہے؟‘‘ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کسی ٹھوس فیصلہ پر پہنچنے کے بجائے صرف اتنا کہہ دیتی ہے کہ ’’جو مناسب لگے، وہی کر لیں‘‘۔ ڈاکٹر خان نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی قیادت ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ملک کی توانائی کی صورتحال اس قابلِ تشویش ہے کہ وہ لوگ جن کے گھر میں کبھی گیس سلنڈر ہوتا تھا، آج لکڑی کی تلاش میں نکلنے پر مجبور ہیں۔
’ملک کا انتظام صرف طاقت یا دباؤ سے نہیں چلتا ہے‘
ڈاکٹر خان نے کہا، ’’یہ وہی ہوتا ہے جب حکومت اپنا وقت صرف پروپیگنڈا میں ضائع کرتی ہے اور ملک کو پالیسی پیرالیسیس کی حالت میں چھوڑ دیتی ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی آواز دبائی جاتی ہے اور لیڈر آف اپوزیشن کو بات کرنے تک نہیں دیا جاتا۔ لیکن ملک کا انتظام صرف طاقت یا دباؤ سے نہیں چلتا، بلکہ اس کے لیے سہمتی، مکالمہ اور جمہوری روایات کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خان نے کہا کہ بدقسمتی سے، موجودہ بی جے پی حکومت یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں دکھتی۔ ان کے مطابق جب تک ہم بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ورلڈ آرڈر کو نہیں سمجھیں گے، ملک کے موجودہ مسائل کا کوئی حل نکالنا مشکل ہوگا۔انہوں نے عوام کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’آخر کب تک عوام کو آپس میں لڑا کر، انتشار پھیلا کر اور خوف و ہراس پیدا کر کے حکومت چلائی جائے گی؟ یہ کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور پیچیدہ معاملہ ہے جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔‘‘
ڈاکٹر خان نے زور دیا کہ ملک کو پالیسی پیرالیسیس سے نکالنے، توانائی کے بحران کا حل تلاش کرنے اور جمہوری اداروں کے مؤثر کردار کو بحال کرنے کے لیے قیادت کو سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، عوام کی بھلائی اور ملک کی ترقی تبھی ممکن ہے جب حکومت شفاف فیصلے، مکالمہ اور عملی اقدامات کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
