Bharat Express DD Free Dish

Qatar’s LNG supply to GAIL suspended: ایران جنگ کے باعث گیل کو قطر سے ایل این جی سپلائی بند، بھارت میں گیس فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

مارکیٹ کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی راستے سے مشرق وسطی سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی بازار مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی: اسرائیل-امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرق وسطی میں بڑھتے تنازع کا اثر اب بھارت کی گیس سپلائی پر بھی پڑنے لگا ہے۔ سرکاری گیس کمپنی GAIL (India) Limited نے اطلاع دی ہے کہ قطر سے ملنے والی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی سپلائی فی الحال مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو ڈاؤن اسٹریم صارفین کو گیس کی فراہمی میں کٹوتی کرنی پڑ سکتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع کے مطابق اس کے طویل مدتی سپلائر Petronet LNG Limited نے 3 مارچ کو فورس میجر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ قطر اور بھارت کے درمیان ایل این جی بردار جہازوں کی آمد و رفت اسٹریٹ آف ہرمز میں سمندری نیویگیشن پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ مزید برآں قطر کے راس لفان میں واقع ایل این جی لیکویفیکشن پلانٹ کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ راس لفان کو دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمدی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

قطر انرجی کی وارننگ

فائلنگ کے مطابق پیٹرونیٹ کے اپ اسٹریم سپلائر QatarEnergy نے بھی خطے میں حالیہ فوجی جھڑپوں کے سبب ممکنہ فورس میجر صورتحال کی اطلاع دی ہے۔ اسی کے نتیجے میں 4 مارچ 2026 سے پیٹرونیٹ کی جانب سے گیل کو فراہم کیا جانے والا ایل این جی کوٹہ صفر کر دیا گیا ہے۔ گیل نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر صارفین کو سپلائی میں کمی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی ایل این جی سپلائی فی الحال متاثر نہیں ہوئی ہے۔

بھارت میں گیس نیٹ ورک پر ممکنہ اثر

GAIL (India) Limited ملک میں تقریبا 11400 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن نیٹ ورک چلاتی ہے اور گیس ٹرانسمیشن کے شعبے میں تقریبا 75 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہے۔ یہ نیٹ ورک مختلف گیس ذرائع کو بڑے صنعتی صارفین اور دیگر خریداروں سے جوڑتا ہے۔ ایسے میں قطر سے سپلائی کی بندش کا اثر صنعتی شعبے اور توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔

عالمی توانائی بازار میں ہلچل

مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی بازار میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایشیا میں اسپاٹ ایل این جی کی قیمتیں حالیہ دنوں میں تین سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔ تاجروں کے مطابق قیمت تقریبا 23.80 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک ریکارڈ کی گئی جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں اگرچہ کچھ کم ہے لیکن مجموعی طور پر اب بھی دوگنی سطح پر ہے۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا، جس سے تیل اور گیس سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔

آبنائے ہرمز پرعالمی نظریں

مارکیٹ کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی راستے سے مشرق وسطی سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی بازار مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے جس کا براہ راست اثر بھارت جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read