Bharat Express DD Free Dish

India Energy

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ بڑھا کر خام تیل پر انحصار کم کرنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت بھی ای-20 کے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد 2030 تک ای-30 کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک بھی آنے والے برسوں میں اپنے ایتھانول بلینڈنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

وزارت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ای-20 پٹرول کے استعمال سے بعض گاڑیوں کی مائلیج میں 3 سے 5 فیصد تک کمی آسکتی ہے، لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف مائلیج کو معیار نہیں بنایا جاسکتا، کیونکہ ای-20 ایندھن کئی اہم فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعووں کی تردید۔ حکومت کا ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کی مسلسل نگرانی کا دعویٰ۔ انجن خراب ہونے، چیونٹیوں کی موجودگی اور انشورنس سے متعلق حکومت نے افواہوں کی تردید کی۔

امریکہ نے جہاز رانی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ او ایف اے سی (OFAC) نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے نقد ہو یا ڈیجیٹل، اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔

سمٹ میں عالمی توانائی بحران کے تناظر میں بھارت کی توانائی سلامتی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے مطابق آنے والے وقت میں یہ پلانٹ پیکجنگ، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل اور طبی آلات سمیت کئی صنعتوں کو خام مال فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی سے مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

مارکیٹ کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی راستے سے مشرق وسطی سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی بازار مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔