تہران: ایران کی حکومت نے اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔ ممبئی میں قائم ایرانی قونصل جنرل کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی مجلس خبرگان کی جانب سے قیادت کے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں گردش کرنے والی خبریں کسی سرکاری ذریعے سے جاری نہیں ہوئیں اور انہیں باضابطہ طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قیادت سے متعلق زیرِ گردش رپورٹس بے بنیاد ہیں اور ان کا کوئی سرکاری ماخذ موجود نہیں۔
Reports circulating on media regarding potential candidates for leadership selected by Iran’s Assembly of Experts have no official source and are officially denied.#Iran#AssemblyOfExperts#FactCheck pic.twitter.com/g9b9znt8j8
— Consulate General of the I.R. Iran in Mumbai (@IRANinMumbai) March 4, 2026
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
اسرائیلی میڈیا نے قبل ازیں رپورٹ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے اور مجلسِ خبرگان جلد باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے دفتر کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور پاسداران انقلاب (IRGC) اور قدس فورس کی اعلیٰ قیادت سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے انہیں اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر مؤقف رکھنے والا قرار دیا اور ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ان کے کردار کا دعویٰ کیا۔ نومبر 2019 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کی تھیں اور انہیں بغیر کسی سرکاری عہدے پر منتخب یا مقرر ہوئے سپریم لیڈر کی نمائندگی کرنے کے الزام میں نامزد کیا تھا۔
آخری رسومات کی تیاریاں
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات آج رات تہران کے امام خمینی نماز گاہ میں ادا کی جائیں گی۔ یہ تقریب تین روز جاری رہے گی جبکہ تدفین کے جلوس کے بارے میں حتمی اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ایران۔امریکہ کشیدگی میں اضافہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے جاری جوہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر کے سفارت کاری کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جب پیچیدہ جوہری مذاکرات کو جائیداد کے سودے کی طرح لیا جائے اور حقائق کو بڑی جھوٹی باتوں سے دھندلا دیا جائے تو غیر حقیقی توقعات پوری نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق ’’مسٹر ٹرمپ نے سفارت کاری اور انہیں منتخب کرنے والے امریکی عوام سے غداری کی ہے۔‘‘ دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کر لیتا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد تہران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف پر جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

