نئی دہلی: ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر-8 مرحلے میں بھارتی کرکٹ ٹیم اپنا آخری اور نہایت اہم مقابلہ یکم مارچ کو کولکاتا کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی۔ اس میچ کو دونوں ٹیموں کے لیے ’’کرو یا مرو‘‘ مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ فاتح ٹیم سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگی، جبکہ شکست کھانے والی ٹیم کا سفر یہیں ختم ہو سکتا ہے۔ بھارتی ٹیم کے لیے یہ مقابلہ محض ایک گروپ میچ نہیں بلکہ وقار اور حساب برابر کرنے کا موقع بھی سمجھا جا رہا ہے۔ میزبان ہونے کے باوجود ٹیم انڈیا ویسٹ انڈیز کو کسی صورت ہلکے میں لینے کے موڈ میں نہیں ہے، کیونکہ 10 برس قبل ملی ایک تاریخی شکست آج بھی بھارتی شائقین اور کھلاڑیوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ سپر-8 مرحلے میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ ویسٹ انڈیز گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہی تھی اور اس نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے حریف ٹیموں کو سخت چیلنج دیا۔ تاہم جمعرات کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں اسے 9 وکٹوں کی یکطرفہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے زمبابوے کو شکست دے کر مضبوط آغاز کیا تھا۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم نے سپر-8 کے پہلے مقابلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کے بعد شاندار واپسی کی اور زمبابوے کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل کی امیدیں برقرار رکھیں۔ اب تمام نظریں یکم مارچ کے اس اہم مقابلے پر مرکوز ہیں، جسے عملی طور پر کوارٹر فائنل تصور کیا جا رہا ہے۔ بھارتی ٹیم کے محتاط رویے کی سب سے بڑی وجہ 2016 کا ٹی20 ورلڈ کپ سیمی فائنل ہے، جب ویسٹ انڈیز نے میزبان بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا تھا۔ 31 مارچ 2016 کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس یادگار میچ میں اس وقت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں بھارت نے مضبوط اسکور کھڑا کیا تھا۔
اس مقابلے میں وراٹ کوہلی نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 47 گیندوں پر ناقابل شکست 89 رنز بنائے اور بھارت نے دو وکٹوں کے نقصان پر 192 رنز اسکور کیے۔ بظاہر یہ ہدف کسی بھی ٹیم کے لیے مشکل دکھائی دے رہا تھا، مگر ویسٹ انڈیز کی طاقتور بیٹنگ لائن نے اس اسکور کو معمولی ثابت کر دیا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے لینڈل سمنز نے 82 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر میچ کا رخ بدل دیا، جبکہ آندرے رسل نے محض 20 گیندوں پر جارحانہ 43 رنز بنا کر بھارتی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ویسٹ انڈیز نے 19.4 اوورز میں ہدف حاصل کر کے نہ صرف میچ جیتا بلکہ بعد میں انگلینڈ کو شکست دے کر عالمی چیمپئن بھی بنی۔ اس ٹیم کے اس وقت کے کپتان ڈیرن سیمی اب موجودہ ویسٹ انڈین ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2016 کے سیمی فائنل میں شامل بھارتی اسکواڈ کے دو اہم کھلاڑی، ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ، آج بھی ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور آئندہ مقابلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں کھلاڑی اپنی آل راؤنڈ کارکردگی اور تیز رفتار بولنگ کے ذریعے ویسٹ انڈیز کی جارحانہ بیٹنگ کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق کولکاتا کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث ایک ہائی اسکورنگ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایسے میں بھارتی ٹیم کو نہ صرف بیٹنگ بلکہ بولنگ اور فیلڈنگ میں بھی مکمل توازن کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ یکم مارچ کو جب دونوں ٹیمیں ایڈن گارڈنز میں آمنے سامنے ہوں گی تو یہ مقابلہ صرف سیمی فائنل کی دوڑ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک دہائی پرانے حساب کو برابر کرنے کی جنگ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارتی ٹیم کی نظریں جہاں جیت پر مرکوز ہوں گی، وہیں شائقین کو ایک سنسنی خیز اور یادگار مقابلے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




