ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ممبئی ایئرپورٹ کے احاطے میں ٹیکسی اور کیب ڈرائیوروں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایئرپورٹ انتہائی حساس سکیورٹی زون ہونے کے باعث وہاں اجتماعی مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس معاملے پر سماعت کے دوران بمبئی ہائی کورٹ نے حکام کو متبادل مقام تلاش کرنے کے امکان پر غور کرنے کی ہدایت دی ہے، تاہم سکیورٹی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایئرپورٹ پر خدمات انجام دینے والے آٹو، ٹیکسی، اولا اور اوبر ڈرائیوروں کی تنظیموں نے مطالبہ کیا تھا کہ رمضان اور دیگر دنوں میں نماز کی ادائیگی کے لیے ایئرپورٹ کے باہر ایک شیڈ فراہم کیا جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ روزانہ بڑی تعداد میں ڈرائیور طویل ڈیوٹی کے باعث قریبی عبادت گاہ تک نہیں پہنچ پاتے، جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ریاستی حکومت اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں واضح کیا کہ ایئرپورٹ کے باہر یا اندر کسی بھی مستقل یا عارضی ڈھانچے کی اجازت دینا سکیورٹی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ حکام کے مطابق یہ علاقہ ہائی سکیورٹی زون میں شامل ہے جہاں کسی بھی وقت خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے بڑی تعداد میں افراد کا دن میں کئی مرتبہ جمع ہونا حفاظتی انتظامات کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ روزانہ پانچ وقت کی نماز میں تقریباً 1500 سے 2000 افراد شریک ہو سکتے ہیں، جس کے باعث پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی اضافی سرکاری وکیل جیوتی چوہان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کی سکیورٹی برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے حفاظتی نظام متاثر ہو۔
سماعت کے دوران جسٹس بی پی کولاباوالا اور جسٹس فردوس پونی والا پر مشتمل بنچ نے ہدایت دی کہ حکام اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا ایئرپورٹ کے اندر یا قریبی علاقے میں کوئی ایسا متبادل مقام فراہم کیا جا سکتا ہے جہاں سکیورٹی سے سمجھوتہ کیے بغیر نماز کی ادائیگی ممکن ہو۔ عدالت نے یہ تجویز بھی دی کہ رمضان المبارک کے دوران عارضی انتظام پر غور کیا جا سکتا ہے، جسے بعد میں ختم کر دیا جائے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجوزہ مقام کے قریب تین مساجد پہلے سے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک مسجد تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں پیدل تیرہ منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری مسجد ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور تیسری تین سے چار کلومیٹر دور واقع ہے۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈرائیور اپنی گاڑیوں کے ذریعے باآسانی ان مساجد تک جا سکتے ہیں۔
اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی اختلاف رائے دیکھنے کو ملا۔ بعض اپوزیشن جماعتوں نے ڈرائیوروں کے مطالبے کی حمایت کی جبکہ حکومتی جماعت اور اس کے رہنماؤں نے سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر اس کی مخالفت کی۔ مہاراشٹر اسمبلی میں بھی اس مسئلے پر گرما گرم بحث ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ مذہبی آزادی اور عوامی سہولت اہم ہیں، مگر قومی سلامتی سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے تمام فریقوں کو باہمی مشاورت کے ذریعے قابل عمل حل تلاش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 4 مارچ مقرر کر دی ہے۔ اس دوران ڈرائیوروں کو قریبی مساجد میں نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ حتمی فیصلہ عدالت کی آئندہ سماعت میں متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


